Urdu book · الربَّانِيَّةُ

حکمتِ دین

Urdu book, p. 98

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک سنت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک واقعہ حدیث کی کتابوں میں آیا ہے۔ مفسرین نے اس واقعہ کو معوذتین کی تشریح کے تحت تفسیر کی کتابوں میں نقل کیا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ مدینہ میں ایک شخص لبید بن اعصم نام کا تھا۔ وہ اپنے زمانہ کا ایک ماہر جادوگر تھا۔ 86ء میں خیبر کے کچھ یہودیوں نے اس آدمی کو تین سنہری سکہ دے کر اس پر راضی کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کوئی طاقت ور جادو کرے۔ اس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ بال اور آپ کی کنگھی کے کچھ دندان حاصل کیے۔ اس پر اس نے جادو کا عمل کیا اور اس کو ایک نر کھجور کے خوشہ کے غلاف میں لپیٹ کر بنوزریق کے کنویں کی تہ میں رکھ دیا۔ اس کنویں کا نام ذروان تھا۔ یہ سارا معاملہ اس نے نہایت راز داری کے ساتھ کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر چند دن تک اس جادو کے کچھ اثرات رہے۔ آپ کو اس سے شدید تکلیف بھی محسوس ہوئی۔ آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی۔ اس کے بعد فرشتہ نے آکر آپ کو پورے معاملہ کی خبر کر دی۔ آپ نے مذکورہ کنویں میں سے جادو کا سامان نکلوایا اور اس کو ضائع کر دیا۔ اسی کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تعلیم کی کہ آپ قرآن کی دوسوره (معوذتین) پڑھا کریں ساس سے آپ اس قسم کے تمام فتنوں سے محفوظ رہیں گے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فتنہ کا استیصال کرنے پر اکتفا فرمایا۔ اس کے بعد آپ نے اس کا عمومی تذکرہ نہیں کیا۔ کیوں کہ اندیشہ تھا کہ اگر اس شرارت کو عام مسلمانوں نے جان لیا تو وہ لبید بن اعصم کے ساتھ نہایت برا معاملہ کریں گے۔ راوی کہتے ہیں : فقُلْتُ افلا تنشّت - فقال اما الله فقد میں نے کہا کہ آپ نے اس کے لیے جھاڑ پھونک کیوں شفانی واكره ان أُثير على احد من نہ کرائی۔ آپ نے فرمایا کہ جہاں تک جادو کا تعلق ہے الناس شراً (اخرجه البخاری ورواه مسلم واحمد بمثله تو اللہ نے مجھے اس سے شفا دیدی اور میں اس کو نا پسند کرتا ہوں کہ لوگوں میں سے کسی شخص کے خلاف شر بھڑکاؤں۔ مومن کی دلچسپی مسئلہ کو ختم کرنے سے ہوتی ہے نہ کہ مسئلہ پیدا کرنے والے شخص کو بدنام کرنے سے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page