Urdu book · الربَّانِيَّةُ

اتحاد و اتفاق

Urdu book, p. 106

By Maulana Wahiduddin Khan

مومنانہ طریقہ ابن عبد البراندلسی (م ۴۶۳ھ) نے ایک واقعہ ان الفاظ میں نقل کیا ہے : روی نا ابن طاؤس او وہب بن منبہ التقی۔ ہم سے بیان کیا گیا ہے کہ طاؤس اور وہب بن منبہ فقال طاؤس لوھب یا ابا عبد اللہ ، بلغنی ایک دوسرے سے ملے۔ طاؤس نے وہب سے کہا عنك امر عظیم - فقال ما هو۔ قال تقول کہ اے ابو عبد اللہ ، آپ کے بارے میں مجھے ایک ان اللہ حمل قوم لوط بعضهم علی بعض۔ سنگین بات پہنچی ہے۔ انھوں نے پوچھا کہ وہ کیا قال اعوذ باللہ ۔ ثم سکت۔ قال فقلت طاؤس نے کہا یہ کہ آپ کہتے ہیں کہ اللہ ہی نے تو هل اختصما ، قال لا ۔ قوم لوط کے بعض کو بعض کے اوپر چڑھایا۔ وہب جامع بيان العلم وفضله ، الجزء الثانی ، صفحه ۹۵ ) بن منبہ نے کہا کہ اللہ کی پناہ۔ پھر دونوں چپ ہو گئے۔ میں نے راوی سے پوچھا، کیا دونوں میں بحث ہوئی۔ راوی نے جواب دیا کہ نہیں ۔ سوال دو قسم کے ہوتے ہیں ۔ ایک سچا سوال ، دوسرے جھوٹا سوال۔ سچا سوال کرنے والا واقعی سائل ہوتا ہے۔ وہ ایک بات کی حقیقت جاننا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے آدمی کو چپ کرنا آسان ہے۔ اس کو اپنے سوال کا جواب مطلوب تھا، اور جب اس کو اپنے سوال کا جواب مل گیا تو وہ خاموش ہو گیا ۔ جھوٹے سائل کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ اس کا مقصد حقیقت کو جاننا نہیں ہوتا بلکہ شخص ثانی کو غلط ثابت کرنا ہوتا ہے۔ اگر وہ اپنے سوال کا جواب پا کر چپ ہو جائے تو اس کا اصل مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ ہر جواب کے بعد نئے شوشے نکال لیتا ہے ۔ کبھی غیر متعلق باتیں چھیڑتا ہے۔ کبھی دلیل سے ہٹ کر عیب جوئی کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ کبھی تلخ کلامی سے مخاطب کو زیر کرنا چاہتا ہے۔ کبھی دھاندلی اور تمسخر کا انداز اختیار کرتا ہے ۔ جو لوگ اس طرح دوسرے کو غلط ثابت کرنا چاہیں، وہ خود اپنے آپ کو غلط ثابت کرتے ہیں نہ کہ کسی دوسرے شخص کو ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page