اتحاد و اتفاق
Urdu book, p. 107
By Maulana Wahiduddin Khan
عبرت ناک مسلمان اسپین میں ۹۲ ھ میں داخل ہوئے اور وہاں حکومت قائم کی ۔ آٹھ سو سال تک با اقتدار رہنے کے بعد ، ۸۹۷ ھ میں وہاں سے ان کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا ۔ اس لمبی مدت کا بڑا حصہ عیسائی طاقتوں سے لڑنے میں گزرا ۔ آخری دور میں مسلمانوں کی حکومت غرناطہ کے محدود علاقہ میں رہ گئی تھی اور اسپین کے وسیع حصہ پر فرڈینینڈ دوم (۱۵۱۶- ۱۴۵۲) کی حکومت قائم تھی ۔ ۸۸۰ ھ میں سلطان ابو الحسن غرناطہ کے تخت پر بیٹھا ۔ اس وقت سلطنت غرناطہ کا رقبہ کم ہو کر صرف چار ہزار مربع میل باقی رہ گیا تھا ۔ جبکہ شاہ فرڈینینڈ کی حکومت کا رقبہ تقریباً سوا لاکھ مربع میل تک پھیلا ہوا تھا ۔ فرڈینینڈ نے مطالبہ کیا کہ سلطان ابو الحسن اس کو خراج دینا منظور کرے ۔ سلطان ابو الحسن نہایت بہادر آدمی تھا ۔ اس نے عیسائی بادشاہ کو جواب میں لکھا کہ : غرناطہ کے دار الحرب میں اب سونے چاندی کے سکے ڈھالنے کے بجائے لوہے کی تلواریں تیار ہو رہی ہیں تاکہ تم عیسائیوں کی گردنیں ماری جائیں ۔ اس کے بعد دونوں بادشاہوں میں جنگ چھڑ گئی ۔ سلطان ابو الحسن نے ان جنگوں میں بار بار شاہ فرڈینینڈ کو شکست دی ، تاہم آخری فتح فرڈینینڈ کو ہوئی ۔ اس کا سب سے بڑا سبب خود سلطان ابو الحسن کا بیٹا ابو عبداللہ محمد تھا ۔ ۸۸۷ جمادی الاول ۸۸۸ھ کو لوشا کے میدان میں سلطان ابو الحسن نے فرڈینینڈ کی فوجوں کو زبردست شکست دی ، مگر جب وہ دشمن کو شکست دے کر واپس ہوا تو معلوم ہوا کہ اس کے بیٹے ابو عبداللہ محمد نے غرناطہ پر قبضہ کرکے اپنی خود مختاری کا اعلان کر دیا ہے ۔ اس کے بعد سلطان اور باغی شہزادے میں جنگ ہوتی رہی ۔ یہاں تک کہ وہ وقت آیا کہ ۲ جنوری ۱۴۹۲ء (۸۹۷ھ) کو عیسائی بادشاہ نے آخری طور پر سلطنت غرناطہ پر قبضہ کر لیا ۔ مسلمانوں کو ماضی میں جتنی شکستیں ہوئی ہیں ، سب آپس کے اختلافات کے نتیجہ میں ہوئی ہیں۔ مگر تاریخ اسلام کا یہی وہ سب سے بڑا واقعہ ہے جو موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو سب سے کم معلوم ہے ۔ ماضی کی طرح آج بھی وہ اس طرح آپس میں لڑ رہے ہیں جیسے کہ انہوں نے اپنے ماضی سے کچھ سبق نہیں سیکھا ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader