Urdu book · الربَّانِيَّةُ

اتحاد و اتفاق

Urdu book, p. 110

By Maulana Wahiduddin Khan

مشورہ عن ابی هريرة عن النبی صلی الله عليه وسلم المستشار مؤتمن عن ابی هريرة قال ما رأيت احداً اكثر مشورة لاصحابه من رسول الله صلی الله عليه وسلم ( ترمذی ، فضائل الجهاد ) قال جعفر الصادق رضی الله عنه لسفيان الثوری شاور فی امرك الذين يخشون الله تعالى ۔ (تعليم المتعلم للشيخ الزنوجی) قال علی كرم الله وجهه ما هلك امرؤ عن مشورة ۔ (تعلیم المتعلم) عن ابن عباس من اراد امراً فشاور فيه امرء مسلما وفقه الله تعالى لأثر شدامره ما تشاور قوم قط الاهد والاورشد امرهم (مدارک التنزيل) من اشار على اخيه بشيي يعلم الرشد فی غيره فقد خان - (تفسير ابن جرير) حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس سے مشورہ کیا جائے وہ امانت دار ہوتا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ میں نے کسی کو اتنا زیادہ مشورہ کرنے والا نہیں دیکھا جتنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب سے مشورہ کرتے تھے ۔ امام جعفر صادق نے سفیان ثوری سے کہا: اپنے معاملات میں ان لوگوں سے مشورہ کرو جو اللہ سے ڈرتے ہیں۔ حضرت علی کا قول ہے کہ مشورہ سے کوئی انسان کبھی ہلاک نہیں ہوتا ۔ عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ جو شخص کوئی کام کرنا چاہے پھر کسی مرد مسلم سے مشورہ کرے تو اللہ تعالیٰ کام کے بہتر پہلو کی طرف اس کی رہنمائی کر دیتا ہے جو لوگ بھی مشورہ کی پابندی کرتے ہیں وہ ہمیشہ اپنے معاملہ کے زیادہ درست پہلو کو پا لیتے ہیں۔ جس نے اپنے بھائی کو جان بوجھ کر غلط مشورہ دیا اس نے اس کے ساتھ خیانت کی۔ آدمیوں میں کوئی زیادہ سمجھ دار ہوتا ہے اور کوئی کم سمجھ والا ۔ کسی کے سامنے ایک پہلو ہوتا ہے ۔ اور کسی کے سامنے دوسرا پہلو ۔ کوئی متاثر رائے قائم کرتا ہے اور کوئی غیر متاثر رائے ۔ ایسی حالت میں آدمی کے لئے بہترین تدبیر یہ ہے کہ دوسروں سے مشورہ کر لیا جائے تاکہ مختلف رایوں کے سامنے آنے کے بعد صحیح فیصلہ کیا جا سکے ۔ مشورہ گویا کہ دوسروں کی صلاحیتوں کے ذریعہ اپنی کمیوں کی تلافی ہے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page