Urdu book · الربَّانِيَّةُ

اتحاد و اتفاق

Urdu book, p. 109

By Maulana Wahiduddin Khan

اختلاف کا سبب دنیا ہر قسم کے جھگڑوں کے پیدا ہونے کا واحد سبب دنیا کو اہمیت دینا ہے۔ لوگ اگر آخرت کو اہمیت دینے لگیں تو کوئی جھگڑا پیدا نہ ہو اور اگر پیدا ہو تو فوراً ختم ہو جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد یہ مسئلہ پیدا ہوا کہ مسلمانوں کا امیر کون ہو۔ یہ بے حد اختلافی مسئلہ تھا۔ مہاجرین کا خیال تھا کہ امیر کسی مہاجر کو ہونا چاہئے۔ انصار کہتے تھے کہ انصار میں سے کسی شخص کو امیر بنایا جائے۔ اس کے بعد ذی ہوش افراد نے لوگوں کے سامنے یہ بات رکھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخر وقت میں حضرت ابو بکر کو نماز کا امام بنایا تھا۔ نماز کی امامت انتظام دین کا معاملہ ہے، اور امارت اور خلافت انتظام دنیا کا معاملہ۔ پھر اللہ کے رسول نے جس شخص کو انتظام دین کے لئے اہل سمجھا ہو وہ بدرجہ اولیٰ انتظام دنیا کا اہل ہوگا۔ اس سلسلے میں یہاں دو روایتیں نقل جاتی ہیں : اخرج النسائى عن ابن مسعود رضی الله عنه لما قبض النبی صلی الله علیه وسلم قالت الانصار منا امیر ومنکم امیر فاتاهم عمر رضی الله عنه فقال الستم تعلمون ان النبی صلی الله علیه وسلم قد امر ابابکر ان يصلى بالناس فايکم تطیب نفسه ان يتقدم ابابکر - فقالوا نعوذ بالله ان نتقدم ابابکر (جمع العوائد)

عن علی رضی الله عنه قال لقد امر النبی صلی الله علیه وسلم ابابکر ان يصلى بالناس و انی لشاهد وما انا غائب وما بی مرض فرضیئالدیانانا مارضی به النبی صلی الله علیه وسلم لدینا (کنزالعمال) حضرت ابن مسعود کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو انصار نے کہا کہ ایک امیر ہم میں سے ہو اور ایک امیر تم میں سے ہو۔ تو حضرت عمر ان کے پاس آئے اور کہا کہ کیا تم لوگ نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلّیٰ اللہ علیہ وسلم نے ابو بکر کو حکم دیا تھا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ پھر تم میں سے کون یہ پسند کرے گا کہ وہ ابو بکر کے آگے بڑھے۔ انھوں نے کہا کہ ہم اس بات سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں کہ ہم ابو بکر کے آگے بڑھیں۔ حضرت علی نے فرمایا کہ رسول اللہ صلّیٰ اللہ علیہ وسلم نے ابو بکر کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ میں اس وقت موجود تھا میں غائب نہیں تھا۔ مجھے کوئی بیماری بھی نہیں تھی۔ لہٰذا ہم اپنی دنیا کے لئے اس شخص پر راضی ہیں جس پر رسول اللہ صلّیٰ اللہ علیہ وسلم ، ہمارے دین کے لئے راضی ہو گئے تھے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page