Urdu book · الربَّانِيَّةُ

اتحاد و اتفاق

Urdu book, p. 116

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا اور رسول کا طریقہ غزوہ تبوک (۹ھ) کے واقعات میں سے ایک واقعہ ہے کہ سفر کے دوران ایک مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی گم ہو گئی ۔ آپ کے اصحاب اس کی تلاش میں نکلے ۔ ایک مسلمان (منافق) بھی شریک سفر تھا جس کا نام زید بن اللصیت تھا۔ اس نے اصحاب رسول کو ادھر اُدھر جاتے ہوئے دیکھا تو پوچھا کہ کیا بات ہے ۔ ایک صحابی نے کہا کہ رسول اللہ کی اونٹنی گم ہو گئی ہے ، اس کو ہم تلاش کر رہے ہیں۔ اس پر زید بن اللصیت نے طنز کرتے ہوئے کہا : أَلَيْسَ مُحَمَّد يزعم أنَّهُ نَبِي ويخبركم کیا محمد کا اپنے بارہ میں یہ گمان نہیں ہے کہ وہ نبی ہیں عَنْ خَبَرِ السَّمَاءِ وَهُوَ لا يَدرى اور وہ تم لوگوں کو آسمان کی خبریں بتاتے ہیں۔ اور أَيْنَ نَاقَتُهُ (سيرة ابن هشام (۴/ ۱۷۸) ان کا حال یہ ہے کہ ان کو یہ بھی نہیں معلوم کہ ان کی اونٹنی کہاں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ ایک آدمی نے کہا ہے کہ یہ محمد تم کو خبر دیتے ہیں کہ وہ نبی ہیں اور ان کا گمان ہے کہ وہ تم کو آسمان کی خبریں بتاتے ہیں، حالانکہ وہ نہیں جانتے کہ ان کی اونٹنی کہاں ہے۔ میرا حال خدا کی قسم یہ ہے کہ مجھے اس کے سوا کسی چیز کا علم نہیں جو اللہ نے مجھ کو بتا دیا ہے۔ اور اب اللہ نے مجھے بتایا ہے کہ اونٹنی کہاں ہے۔ وہ اس وادی میں فلاں گھاٹی میں ہے۔ ایک درخت میں مہار کی رسی الجھنے نے اس کو روک لیا ہے۔ تم لوگ وہاں جاؤ اور اس کو لے کر میرے پاس آؤ۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس کے بعد زید بن اللصیت نے توبہ کر لی ۔ دوسرا قول یہ ہے کہ وہ برابر اپنے اس شر میں مبتلا رہا یہاں تک کہ وہ مر گیا (۴/۱۷۸) اس واقعہ کے بعد ایک صورت یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم آتا کہ زید بن اللصیت شستم رسول کا مجرم ہے ، اس کو فوراً قتل کر دو، مگر ایسا نہیں ہوا۔ آپ نے صرف یہ بتانے پر اکتفا فرما یا کہ اونٹنی فلاں جگہ موجود ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر زید کو قتل کر داتنے تو وہ صرف ایک شخص کا قتل ہوتا ، مگر جب آپ نے کھوئی ہوئی اونٹنی کی بابت صحیح صحیح خبر دیدی تو آپ نے اس کے فتنے کو قتل کر دیا ، اور بلاشبہ کسی شخص کو قتل کرنے کے مقابلہ میں اس کے فتنے کو قتل کرنا کہیں زیادہ اہم ہے اور اسی کے ساتھ کہیں زیادہ مفید بھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page