Urdu book · الربَّانِيَّةُ

اتحاد و اتفاق

Urdu book, p. 117

By Maulana Wahiduddin Khan

بلند اخلاقی رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں قرآن کی گواہی ہے کہ آپ اخلاق کے اعلیٰ مرتبہ پر تھے (القلم ۴) آپ کے اعلیٰ اخلاق کا ایک واقعہ یہ ہے : عن انس بن مالك ، قال كنت امشي مع انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم رسول الله صلى الله عليه وسلم وعليه برد نجرانی کے ساتھ چل رہا تھا۔ آپ کے اوپر موٹے کنارے کی غليظ الحاشية فأدركه اعرابی فجبده نجرانی چادر تھی۔ ایک دیہاتی آپ سے ملا۔ اس نے بردائه جبذة شديدة فنظرت آپ کی چادر پکڑ کر آپ کو نہایت زور کے ساتھ الى صفحة عاتق النبي صلى الله وسلم کھینچا۔ میں نے دیکھا تو سختی کے ساتھ چادر کھینچنے کی وقد أثرت بها حاشية البرد وجہ سے آپ کے کندھے پر نشان پڑ گیا تھا۔ اس کے من شدة جبذته ثم قال يا محمد بعد دیہاتی نے کہا کہ اے محمد، مجھے اس مال میں مرلى من مال الله الذي عندك سے دینے سے کا حکم دو جو تمہارے پاس ہے۔ آپ فالتفت اليه فضحك ثم أمرله نے اس کی طرف دیکھا اور مسکرائے۔ پھر آپ نے بعطاء (متفق عليه) اس کو مال دیئے جانے کا حکم فرمایا۔ مذکورہ دیہاتی ایک اعتبار سے گستاخ تھا، دوسرے اعتبار سے وہ ضرورت مند تھا۔ رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم نے اس کے گستاخی کے پہلو کو نظر انداز کیا اور صرف اس کی ضرورت کے پہلو کو دیکھا۔ اس کی گستاخی کا جواب آپ نے مسکراہٹ سے دیا اور اس کے ضرورت مند ہونے کی حیثیت کا لحاظ کرتے ہوئے اس کو مال عطا فرمایا۔ رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کا یہ واقعہ بتاتا ہے کہ اس طرح کے معاملات میں مومن کا طریقہ کیا ہونا چاہیئے ۔ مومن کو چاہیئے کہ وہ ہمیشہ ذاتی رنج کے پہلو کو نظر انداز کرے اور معاملہ کے حقیقی پہلو پر توجہ دیتے ہوئے اس کو خیر خواہانہ اور منصفانہ انداز میں حل کرنے کی کوشش کرے۔ کسی شخص سے مومن کو تکلیف پہونچے تو وہ ذاتی تکلیف کے پہلو کو خدا کے خانہ میں ڈال دیتا ہے۔ وہ ذاتیات سے اوپر اٹھ کر ایسے شخص سے معاملہ کرتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page