Urdu book · الربَّانِيَّةُ

مثال اللہ

Urdu book, p. 123

By Maulana Wahiduddin Khan

اخلاق رسول اسلام کی ابتدائی تاریخ میں ایک غزوہ وہ ہے جس کو ذات الرقاع کہا جاتا ہے۔ یہ جمادی الاول ۳ھ ھ میں پیش آیا، اس غزوہ کے واقعات میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ سفر کے دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مقام پر آرام فرمارہے تھے۔ آپ کی تلوار درخت کی شاخ سے لٹکی ہوئی تھی۔ اس وقت آپ تنہا تھے۔ ایک مشرک غورث بن الحارث نے آپ کو اس حالت میں دیکھ لیا۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے فاتحانہ انداز میں کہا کہ کیا میں تمہارے لیے محمد کو قتل نہ کر دوں (الا اقتل لكم محمدا) انھوں نے کہا ہاں ہاں (قالوا بلی)، اس کے بعد وہ خاموشی سے وہاں پہنچا جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تنہا لیٹے ہوئے تھے۔ اس نے درخت سے تلوار اتاری اور ہاتھ میں ننگی تلوار لے کر آپ کے پاس کھڑا ہو گیا۔ اس نے کہا کہ اے محمد، اب کون تم کو مجھ سے بچا سکتا ہے (من يمنعك منى يا محمد) آپ نے فرمایا اللہ۔ آپ کی زبان سے پر اعتماد لہجہ میں ” اللہ “ کا نام سن کر مشرک پر ہیبت طاری ہو گئی۔ اس نے تلوار رکھ دی۔ اب آپ نے وہ تلوار اپنے ہاتھ میں لے لی اور اس سے کہا کہ بتاؤ، اب تم کو کون میرے ہاتھ سے بچائے گا۔ اس نے کہا کہ آپ بہتر صاحب تلوار بنیں (کن خیر آخذ) اس کے بعد آپ نے اس کو چھوڑ دیا اور کہا کہ جاؤ میں نے تم کو معاف کیا۔ اس واقعہ کے بعد وہ مشرک اپنے قبیلہ میں واپس چلا گیا۔ وہی شخص جو اپنے قبیلہ سے یہ کہہ کر گیا تھا کہ میں محمد کو قتل کرنے جارہا ہوں ، اب ان سے یہ کہنے لگا کہ میں ایک ایسے آدمی کے پاس سے آیا ہوں جو تمام انسانوں میں سب سے بہتر انسان ہے (جئکم من عند خير الناس) سيرۃ ابن کثیر ۱۶۲/۳ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر مذکورہ مشرک کی گستاخی اور اس کے جرم پر اس کو قتل کر دیتے تو اس کے قبیلہ میں یہ خبر پہنچتی کہ محمد نے ہمارے آدمی کو قتل کر دیا۔ اس خبر سے قبیلہ والوں میں انتقامی احساس جاگتا۔ مگر اب قبیلہ والوں میں یہ خبر پہنچی کہ محمد بہترین اخلاق کے آدمی ہیں۔ انھوں نے مجرم پر قابو پانے کے باوجود اس کو معاف کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے اندر اخلاقی احساس جاگ اٹھا۔ پہلے مذکورہ شخص (غورث بن الحارث) نے اسلام قبول کیا اور اس کے بعد اس کا پورا قبیلہ اسلام میں داخل ہو گیا۔ ایک روش کی صورت میں وہاں انتقام کی ہوائیں چلتیں، دوسری روش کی صورت میں وہاں دین رحمت کی ہوائیں چل پڑیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page