Urdu book · الربَّانِيَّةُ

مثال اللہ

Urdu book, p. 122

By Maulana Wahiduddin Khan

نبی رحمت کا طریقہ فتح مکہ کے بعد مکہ کی بہت سی عورتوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر اسلام قبول کیا۔ انھیں میں سے ایک ابوسفیان کی بیوی ہند بنت عقبہ بن ربیعہ تھی۔ یہ وہی عورت ہے جس نے احد کی جنگ میں حضرت حمزہ کی لاش کی بے حرمتی کی تھی۔ وہ کئی عورتوں کے ساتھ آئی۔ اس نے کہا کہ اگر میں نے محمد کے سامنے کلام کیا تو وہ پہچان لیں گے ، اور اگر انھوں نے پہچان لیا تو وہ مجھے قتل کر دیں گے ( فقالت انی ان اتکلم يعرفنی وان عرفنی قتلنی) چنانچہ بیعت کے وقت ہند نے نقاب سے اپنا چہرہ چھپالیا۔ مگر وہ اونچے خاندان کی عورت تھی، اس لیے وہ اپنی بڑائی کے احساس سے چپ نہ رہ سکی ۔ بیعت کے الفاظ ادا کرتے ہوئے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے فرمایا کہ یوں کہو کہ ہم اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گے ( ولا نقتل اولادنا) تو ہند نے بے برداشت ہو کر گستاخی کے الفاظ کہے۔ اس کے الفاظ مختلف روایتوں میں اس طرح نقل کیے گئے ہیں : قالت هند انت قتلتهم يوم بدر فانت هند نے کہا کہ آپ نے ان کو بدر کے دن قتل کر دیا اس لیے آپ جانیں اور وہ جانیں۔ و هم ابصر۔ ربيناهم صغاراً فقتلتموہم کباراً ہم نے چھوٹے پر انھیں پالا اور بڑے پر آپ نے انھیں قتل کر دیا۔ تقتل آباءهم وتوصينا بارلادهم آپ خود تو ان کے باپوں کو قتل کرتے ہیں اور ہم کو ان کی اولاد کے بارے میں نصیحت کر رہے ہیں۔ ہند نے اس سے پہلے بھی بار بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی تھی۔ مذکورہ واقعہ میں تو اس نے رو در رو توہین رسالت کا ارتکاب کیا، موجودہ زمانہ کے نام نہاد مسلم رہنماؤں نے جو خود ساختہ اسلام وضع کر رکھا ہے، یہی اسلام اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ہوتا تو آپ فظ ہند کو قتل کرا دیتے۔ مگر آپ نے بیعت لے کر ہند کو اسلام میں داخل کر لیا۔ آج مسلمانوں سے سب سے بڑی چیز جو کھوئی گئی ہے وہ نبی رحمت کا یہی طریقہ ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page