Urdu book · الربَّانِيَّةُ

حالاتِ صحابہ

Urdu book, p. 128

By Maulana Wahiduddin Khan

ہیروؤں کی نرسری پروفیسر ہٹی نے عرب مسلمانوں کی غیر معمولی ترقیات کو بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انھوں نے مختلف شعبوں میں جو کارنامے انجام دئے ، تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ خالد بن ولید اور عمر بن عاص کی فوجی مہمیں جو عراق ، ایران ، شام اور مصر میں جاری ہوئیں وہ بلا شبہ تاریخ کی انتہائی کامیاب مہموں میں سے تھیں۔ ان کی ان جنگی مہموں کا مقابلہ بالکل بجا طور پر نپولین، ہنے بال اور سکندر کی جنگی مہموں سے کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح کی مثالیں بیان کرتے ہوئے ان کے قلم سے یہ الفاظ نکلے ہیں کہ پیغمبر کی وفات کے بعد عرب کی بنجر زمین گویا جادو کے زور سے ہیروؤں کی نرسری میں تبدیل ہو گئی۔ ایسے ہیرو جن کے مثل کہیں اور پانا بے حد مشکل ہے۔ تعداد کے اعتبار سے بھی اور خصوصیت کے اعتبار سے بھی : After the death of the Prophet sterile Arabia seems to have been con- verted as if by magic into a nursery of heroes the like of whom both in number and quality is hard to find anywhere. P.K. Hitti, History of the Arabs (1979), p. 142 یہی کسی تحریک کی کامیابی کا سب سے بڑا راز ہے۔ وہی تحریک عظیم تحریک ہے جس نے اپنے عمل کے دوران عظیم انسان پیدا کئے ہوں۔ کیونکہ عظیم انسان ہی در اصل کوئی عظیم واقعہ ظہور میں لاتے ہیں نہ کہ شاعری اور خطابت کے ہنگامے ۔ اسلامی انقلاب ایسی تحریک کے ذریعہ وجود میں آتا ہے جو اپنے گرد جمع ہونے والے افراد میں اعلیٰ حوصلہ اور اونچا کردار پیدا کرے۔ جس کے نتیجہ میں انسانی معاشرہ ہیروؤں کی نرسری کی مانند بن گیا ہو۔ اس کے برعکس جن لوگوں کی مثال ایسی ہو جیسے جھاڑ جھنکار کا جنگل، وہ زمین کو صرف فساد سے بھریں گے، ایسے لوگ کبھی اسلامی انقلاب برپا کرنے والے نہیں بن سکتے۔ صحابہ کرام تاریخ انسانی کے بہترین لوگ تھے ۔ وہ اعلیٰ ترین بشری اوصاف کے مالک تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے تاریخ کا سب سے بڑا انقلاب برپا کیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page