حالاتِ صحابہ
Urdu book, p. 129
By Maulana Wahiduddin Khan
ایمانی کردار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری زمانہ کی بات ہے۔ لوگ نماز کے لیے مسجد میں اکٹھا تھے۔ جماعت کا وقت ہو گیا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیماری کی شدت کی وجہ سے حجرہ سے باہر تشریف نہ لاسکے۔ اس وقت حضرت ابو بکر بھی مسجد میں موجود نہ تھے۔ چنانچہ عبداللہ بن زمحہ اور دوسرے لوگوں نے اصرار کر کے حضرت عمر کو امامت کے لیے آگے کر دیا۔ حضرت عمر نہایت بلند آواز تھے۔ جب انہوں نے "اللہ اکبر" کہہ کر نماز شروع کی تو ان کی آواز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرہ تک پہنچ گئی۔ آپ نے سن کر فرمایا: ابو بکر کہاں ہیں۔ اللہ اور مسلمان اس پر راضی نہیں، (ابن ابو بکر، یابی اللہ ذالك والمسلمون) اس کے بعد آپ کی ہدایت کے مطابق حضرت ابو بکر بلائے گیے، اور حضرت عمر کے بجائے انہوں نے نماز پڑھائی۔ جس وقت یہ واقعہ ہوا، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ کے حجرہ میں تھے۔ چونکہ اسی امامت نماز پر آئندہ خلافت حکومت کا فیصلہ ہونے والا تھا، اس لیے حضرت عمر یہ سوچ سکتے تھے کہ ان کو خدا نخواستہ کسی "سازش" کے تحت امامت کے مقام سے ہٹایا گیا ہے، اور اس سازش کا اصل دماغ عائشہ ہیں جو حضرت ابو بکر کی صاحبزادی ہیں۔ انہوں نے اپنے والد کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلیفہ بنانے کے لیے یہ ڈرامہ کروایا ہے۔ مگر حضرت عمر کا خوف خدا اس میں مانع تھا کہ وہ اس قسم کی بدگمانی کو اپنے دل میں جگہ دیں۔ راوی کہتے ہیں کہ عمر نے ابو بکر پر کسی قسم کا الزام نہیں لگایا (كان عمر غير متهم على ابی بکر، سيرة النبی لابن هشام، الجزء الرابع، صفحه ۳۲) کسی گروہ کو متحد رکھنے اور اس کی اجتماعی زندگی کو مستحکم بنیاد پر قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے افراد کے اندر ایک دوسرے کے بارہ میں حسن ظن پایا جاتا ہو۔ مضبوط اجتماعیت کے لیے حسن ظن اتنا ہی ضروری ہے جتنا مضبوط تعمیر کے لیے سیمنٹ۔ دور اول کے مسلمان اپنی اسی خصوصیت کی بنیاد پر کامل اتحاد کا نمونہ تھے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے اس خصوصیت کو کھو دیا ہے، اسی لیے وہ اجتماعیت اور اتحاد کو بھی کھوئے ہوئے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader