الربَّانِيَّةُ
Urdu book, p. 12
By Maulana Wahiduddin Khan
اصحاب رسول ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے اصحاب کو برا نہ کہو۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر سونا صدقہ کرے تو وہ ان کے ایک مد یا اس کے نصف کے صدقہ کے برابر بھی نہیں پہنچے گا لا تسبوا اصحابی فو الذي نفسي بيده لو ان احدكم انفق مثل احد ذهبا ما بلغ مد احدهم ولا نصيفه، متفق علیہ) اصحاب رسول کی یہ عظمت کسی پر اسرار تقدس کی بنا پر نہیں ہے، اس کی ایک معلوم اور معقول وجہ ہے، اور وہ وہی ہے جو متر آن میں واضح طور پر بتائی گئی ہے۔ یہ وجہ ہے "فتح" سے پہلے ایمان لانا اور قربانیاں دینا۔ (الحديد ١٠) غلبہ اور فتح سے پہلے رسول کی حیثیت بس ایک عام انسان کی تھی۔ اس وقت تک آپ کی حیثیت رسالت ثابت شدہ نہیں بنی تھی، وہ تاریخی طور پر معتبر اور مسلم نہیں ہوئی تھی۔ اس وقت رسول کو پہچاننے اور اس پر فدا ہونے کے لیے وہ خاص نظر درکار تھی جو کسی چیز کو محض جوہر کی سطح پر پہچان لیتی ہے۔ اس وقت آپ کا ساتھ دینے کے لیے وہ انوکھا حوصلہ درکار تھا جو ایسے وقت میں ایک صاحب حق کا ساتھ دے جس کا ساتھ دینا پورے سماج میں نگوں بن جانے کے ہم معنی ہو۔ جو اس وقت قربانی پیش کرے جب کہ قربانی پیش کرنے کا کوئی کریڈٹ اس کو نہ مل رہا ہو۔ سورہ حدید میں ہے کہ پیغمبر کا انکار کرنے والوں نے کہا کہ ہم تمہارے اندر کوئی "فضل" نہیں دیکھتے۔ پیغمبر نے جواب دیا، کیا تم کو "بینہ " دکھائی نہیں دیتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کیا چیز ہے جو ہر دور میں داعیان حق کو پھیلانے میں رکاوٹ بنتی رہی ہے۔ وہ یہ کہ لوگ اپنی ظاہر بینی کی وجہ سے داعی حق کو دنیوی بڑائی کی زمین پر دیکھنا چاہتے ہیں، جب کہ حق کا داعی ہمیشہ دلیل کی زمین پر کھڑا ہوتا ہے۔ صحابہ تاریخ کے وہ نادر گروہ ہیں جنھوں نے پیغمبر کو اس وقت پہچانا جب کہ اس کی صداقت کو ثابت کرنے کے لیے نظری دلیل کے سوا اور کوئی چیز موجود نہ تھی۔ ان کی یہی امتیازی صفت ہے جس نے ان کو تاریخ میں امتیازی درجہ دے دیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader