الربَّانِيَّةُ
Urdu book, p. 13
By Maulana Wahiduddin Khan
توحید اور شرک انسانوں میں دو قسم کے انسان ہوتے ہیں ۔ ایک خدا کی سطح پر جینے والا ، دوسرا غیر خدا کی سطح پر جینے والا ۔ پہلا انسان مذہب توحید پر ہے اور دوسرا انسان مذہب شرک پر ۔ پہلے انسان کا نام موحد ہے اور دوسرے انسان کا نام مشرک ۔ یہ فرق اس اعتبار سے پیدا ہوتا ہے کہ کون آدمی کس کو سب سے زیادہ اہم سمجھتا ہے ، کون آدمی کس کی عظمتوں سے سب سے زیادہ متاثر ہے ، کون آدمی کس چیز کو اپنی زندگی میں آخری درجے دیے ہوئے ہے ۔ اسی نفسیاتی حالت کو مذہب کی اصطلاح میں عقیدہ کہا جاتا ہے یہی عقیدہ کا فرق ایک انسان کو دوسرے انسان سے الگ کر دیتا ہے ، ایک قسم کے عقیدہ والا خدا پرست بن جاتا ہے اور دوسرے قسم کے عقیدہ والا غیر خدا پرست ۔ جو انسان خدا کے عقیدہ پر ہو وہ خدا کی بڑائیوں میں جینے والا انسان ہوتا ہے ۔ اس کی محبتیں اور اس کے اندیشے خدا سے وابستہ ہوتے ہیں ۔ اس کی یادوں میں خدا کا وجود سمایا ہوا ہوتا ہے ، وہ خدا کی آنکھ سے دیکھتا ہے ، وہ خدا کے کان سے سنتا ہے اور خدا کے ذہن سے سوچتا ہے ، اس کے تمام اقوال اور افعال پر خدا کا رنگ چھایا ہوا نظر آتا ہے ۔ وہ جس چیز کو چھوڑتا ہے خدا کے لیے چھوڑتا ہے ، وہ جس چیز کو اختیار کرتا ہے خدا کے لیے اختیار کرتا ہے ۔ وہ ہر اعتبار سے خدا میں جینے والا انسان بن جاتا ہے ۔ جو انسان شرک کے عقیدہ پر ہو اس کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے ۔ اس کے ذہن میں دوسری دوسری چیزوں کی عظمتیں سمائی ہوئی ہوتی ہیں ۔ یہ دوسری چیزیں خواہ سورج اور چاند ہوں ، خواہ وہ مفروضہ روحیں ہوں ، خواہ وہ قوم کے بزرگ اور اکابر ہوں ، خواہ وہ اس کی اپنی ذات یا اس کے بیوی بچے ہوں ۔ ایسے انسان کا ذہن ہمیشہ غیر خدائی چیزوں پر چلتا ہے ، وہ انھیں کی یادوں میں تڑپتا ہے ۔ اس کے حوصلے اور عزم ہمیشہ انھیں چیزوں کے گرد گھومتے ہیں ۔ اس کا غم اور اس کی خوشی سب انھیں چیزوں سے وابستہ ہوجاتی ہیں ۔ یہی چیزیں اس کی زندگی کا رخ متعین کرتی ہیں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader