Urdu book · الربَّانِيَّةُ

حالاتِ صحابہ

Urdu book, p. 138

By Maulana Wahiduddin Khan

صحیح ردعمل ابن خلدون نے اسلامی تاریخ کا ایک واقعہ ان الفاظ میں نقل کیا ہے : یحکی فی کتب السیر و التاریخ ان ابا موسیٰ حضرت ابو موسیٰ اشعری نے عراقی لشکر کے ایک سپاہی الاشعرى عاقب جنديا في جيش العراق کو سزا دی۔ انھوں نے اس کے سر کے بال مںڈ وا دئے فحلّق شعر راسه ۔ فجمع الجندی للشعر اس کے بعد سپاہی نے بالوں کو جمع کیا اور اس کو لے کر و سافربه من العراق الى المدينة بالحجاز و عراق سے مدینہ آیا۔ وہ امیر المومنین حضرت عمر فاروق دخل علی امیر المومنین عمر بن الخطاب سے ملا۔ اس نے کٹے ہوئے بال حضرت عمر کے آگے رضی الله عنه فقدف بالشعر امامه و قال ڈال دیتے اور غصہ میں کہا۔ تمہارے آدمی اس طرح فی غضب۔ هکذا یعاملنا رجالک۔ فتهدل وجه ہمارے ساتھ معاملہ کرتے ہیں۔ یہ سن کر حضرت عمر کا عمرء قال لان يكون الناس كلهم فی مثل چہرہ چمک اٹھا۔ انھوں نے کہا۔ اگر تمام لوگ اس آدمی شجاعة هذا احب الى من كل ما فتحنا من کی طرح بہادر ہو جائیں تو وہ مجھ کو تمام ملکوں کی فتوحات بلاد سے زیادہ محبوب ہیں۔ حضرت عمر فاروق کے لئے واقعہ کو دیکھنے کے دو رخ تھے۔ ایک یہ کہ سپاہی نے اپنے افسر کی اور خود خلیفہ وقت کی گستاخی کی ہے۔ دوسرا یہ کہ وہ ایک بہادر انسان ہے۔ اور وقت کے حکمران کے سامنے کھڑے ہو کر بھی بے باکانہ اظہار خیال سے نہیں ڈرتا۔ حضرت عمر اگر واقعہ کو پہلے رخ سے دیکھتے تو وہ سپاہی کے اوپر بگڑ جاتے۔ وہ اس کو سزا دیتے یا اپنی مجلس سے نکلوا دیتے۔ مگر انھوں نے گستاخی کے پہلو کو نظر انداز کیا۔ انھوں نے صرف یہ دیکھا کہ سپاہی نے میرے سامنے جس جرأت اور حوصلہ کا مظاہرہ کیا ہے ، یہ کسی انسان کا سب سے بڑا جوہر ہے اور یہی کسی آدمی سے بڑے بڑے کام کرواتا ہے۔ اسی طرح ہر واقعہ کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ ایک منفی اور دوسرا مثبت۔ منفی پہلو آدمی کے اندر صرف تخریبی نفسیات کو جگاتا ہے۔ اور مثبت پہلو اس کے اندر تعمیری نفسیات کو جگا کر اس کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنے لیے بھی کار آمد بن سکے اور دوسروں کے لیے بھی۔ اس دنیا میں کوئی بڑا کام وہی لوگ کرتے ہیں جو واقعات کے مثبت پہلو کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page