حالاتِ صحابہ
Urdu book, p. 137
By Maulana Wahiduddin Khan
جوہر شناسی علامہ ابن قیم (۵۱۷۔ ۷۹۱ھ) نے اپنی کتاب طریق الہجر تین میں ایک واقعہ اس طرح نقل کیا ہے : روى عن عبدالعزيز بن ابی حازم عن ابيه عن سهل بن سعد قال : تلا رسول الله صلي الله عليه وسلم قوله عز وجل : افلا يتدبرون القرآن ام على قلوب اقفالها، وغلام جالس عند رسول الله صلي الله عليه وسلم فقال : بلى والله يا رسول الله ۔ ان عليها الاقفالها ۔ ولا يفتحها الا الذى اقفلها۔ فلما ولى عمر بن الخطاب طلبه ليستعمله وقال : لم يقل ذلك الآمين عقل (صفحه ۷۷) حضرت سہل بن سعد کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ محمد کی یہ آیت تلاوت فرمائی : کیا وہ قرآن پر غور نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر اس کے تالے پڑے ہوئے ہیں ۔ اس وقت ایک لڑکا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے یہ آیت سن کر کہا : ہاں، خدا کی قسم اے اللہ کے رسول، بیشک دل پر اس کے تالے ہوتے ہیں ۔ اور ان کو کوئی نہیں کھول سکتا سوا اس کے جس نے اس کو لگایا ہے۔ پھر جب حضرت عمر بن خطاب خلیفہ ہوئے تو انہوں نے اس لڑکے کو بلایا تا کہ اس کو عامل بنائیں۔ اور انھوں نے کہا: لڑکے نے یہ جو بات کہی وہ عقل سے کہی۔ جو لوگ اجتماعی معاملات کے ذمہ دار ہوں ان کے لیے افراد کی بے حد اہمیت ہوتی ہے۔ کسی ادارہ یا کسی اجتماعی عمل کی حسن کار کردگی کے ضامن ہمیشہ اس کے افراد ہوتے ہیں۔ ایسے افراد ہمیشہ معاشرہ میں موجود رہتے ہیں مگر جن ذمہ داروں کے ہاتھ میں افراد کے انتخاب کی ذمہ داری ہو ان کے اندر ایک صفت لازمی طور پر پائی جانی چاہیے ۔ اور وہ یہ کہ وہ آدمی کے جوہر ذاتی کی بنیاد پر اس کا انتخاب کریں نہ کہ کسی اور بنیاد پر۔ ادارہ کے ذمہ دار میں اگر خویش پروری کا جذبہ ہو۔ اگر وہ خوشامدی انسانوں کو پسند کرتا ہو۔ اگر وہ یہ چاہتا ہو کہ اس کے گرد و پیش تمام لوگ اس سے کمتر صلاحیت کے ہوں تاکہ اس کی ذاتی بڑائی قائم رہے ، ذمہ دار کے اندر اگر اس قسم کا مزاج ہو تو وہ ادارہ کو بے کار انسانوں کا کڑ خانہ بنا دیگا اس کے برعکس اگر اس کے اندر وہ مزاج ہو جس کا ایک نمونہ اوپر کے واقعہ میں نظر آتا ہے تو اس کا ادارہ ایک ایسا باغ ہوگا جس میں ہر قسم کے بہترین درخت لگے ہوئے ہوں، اور ہمیشہ وہ اپنا پھل دیتا رہے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader