اسلامی زندگی
Urdu book, p. 140
By Maulana Wahiduddin Khan
بالکل اجنبی تھے۔ چنانچہ ان کے لئے یہ انتظام کیا گیا کہ مکہ کے مسلمانوں (مہاجرین) اور مدینہ کے مسلمانوں (انصار) کے درمیان مواخات قائم کی گئی۔ یعنی مکہ سے آنے والے ہر شخص کو مدینہ میں رہنے والے کسی شخص کا بھائی بنا دیا گیا۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف ایک مہاجر تھے۔ ان کی مواخات حضرت سعد بن ربیع انصاری سے ہوئی۔ سعد بن ربیع مدینہ میں اس وقت کے لحاظ سے ایک مالدار شخص تھے۔ انہوں نے پوری فراخ دلی کے ساتھ اپنے مہاجر دینی بھائی کو واقعی بھائی کی طرح قبول کر لیا۔ حضرت سعد بن ربیع انصاری نے اپنے مہاجر بھائی سے کہا کہ میرے پاس جو مال ہے وہ سب میرے اور تمہارے درمیان مشترک ہے۔ میں اس کو دو برابر حصوں میں تقسیم کر دیتا ہوں۔ اور میں تم کو قسم دیتا ہوں کہ دونوں میں سے جو حصہ تم کو زیادہ اچھا معلوم ہو اس کو تم لے لو (و استخلفك ان تاخذ خير الحصتين) حضرت عبدالرحمن بن عوف نے اپنے انصاری بھائی کی زبان سے یہ سنا تو انہوں نے ان کو دعا دی اور اس کے بعد کہا کہ تمھارا جذ بہ بہت مبارک ہے ، اللہ تعالیٰ تمھیں اس کی جزائے خیر دے۔ مگر میں ایک ایسا شخص ہوں جس کو تجارت کرنا آتا ہے۔ اس لئے تم میرے لئے صرف یہ کرو کہ مجھ کو بازار کا راستہ بتا دو (إني رجل له حظ في التجارة فدلني الى السوق) حضرت سعد بن ربیع انصاری کے لئے موقع تھا کہ وہ اپنے مال کا زیادہ حصہ کسی نہ کسی تدبیر سے اپنے لئے مخصوص کر لیتے اور کچھ حصہ اپنے مہاجر بھائی کو دے دیتے۔ اسی طرح حضرت عبدالرحمن بن عوف ایسا کر سکتے تھے کہ ان کے انصاری بھائی نے جب اپنا نصف مال انھیں پیش کر دیا تو وہ فوراً اس کو لے لیتے۔ مگر دونوں نے وہ کیا جو ان کا ایمان اور تعلق باللہ ان سے تقاضا کر رہا تھا۔ انصاری مسلمان نے اپنے مال کا نصف حصہ مہاجر مسلمان کو پیش کر دیا۔ دوسری طرف مہاجر مسلمان نے اپنے انصاری بھائی کو دعا دیتے ہوئے اپنی محنت پر بھروسہ کیا۔ ایک کا جذ بہ ایمان ہمدردی کی صورت میں ظاہر ہوا اور دوسرے کا خود اعتمادی کی صورت میں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader