Urdu book · الربَّانِيَّةُ

اسلامی زندگی

Urdu book, p. 145

By Maulana Wahiduddin Khan

آدمي کي پہچان تقدم رجل لاداء الشهادة عند عمر رضي الله عنه فقال له ائتنى بمن يعرفك ـ فاتا له برجل فقال له امير المومنين ، هل انت جاره الادنى الذي يعرف مدخله ومخرجه ؟ فقال : لا ، قال هل كنت رفيقه في السفر الذى يستدل به على مكارم الاخلاق ؟ قال : لا ، قال : هل عاملته بالدينار والدرهم الذى يستبين منه ورع الرجل قال : لا ، قال ؛ اظنك رايته قائماً فى المسجد يتلو القرآن، يخفض راسه تارة ويرفعه اخرى قال : نعم ، فقال اميرالمومنين: اذهب فلست تعرفه ـ خلیفہ دوم عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص گواہی دینے کے لیے آیا۔ آپ نے اس سے کہا کہ کوئی ایسا آدمی لے آؤ جو تم کو جانتا ہو۔ اس کے بعد وہ ایک آدمی کو لے آیا۔ حضرت عمرؓ نے اس سے پوچھا۔ کیا تم اس شخص کے قریبی پڑوسی ہو جو اس کے آنے کو اور جانے کو دیکھتا ہے۔ آدمی نے کہا کہ نہیں۔ آپ نے پوچھا۔ کیا تم اس کے ساتھ سفر میں رہے ہو جس میں آدمی کا اخلاق معلوم ہوتا ہے۔ آدمی نے کہا کہ نہیں۔ آپ نے پوچھا۔ کیا تم نے اس کے ساتھ دینار اور درہم کا معاملہ کیا ہے جس کے ذریعہ آدمی کا تقویٰ ظاہر ہوتا ہے۔ آدمی نے کہا کہ نہیں۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا : میرا خیال ہے کہ تم نے اس کو مسجد میں دیکھا ہے کہ وہ نماز پڑھ رہا ہے اور قرآن پڑھ رہا ہے ، کبھی وہ اپنا سر نیچے لے جاتا ہے اور کبھی اپنا سر اوپر اٹھاتا ہے۔ آدمی نے کہا کہ ہاں ۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا : تم واپس جاؤ، کیوں کہ تم اس کو نہیں جانتے۔ مذکورہ آدمی جس شخص کی نیکی کی گواہی دینے آیا تھا، اس کو اس نے "خدا" کے سامنے کھڑا ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔ مگر اس نے اس کو "اننسان" کے سامنے کھڑا ہوتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ اس بنا پر حضرت عمرؓ نے اس آدمی کی رائے کو نہیں مانا۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک انسانی معاملات میں کوئی شخص نیک ثابت نہ ہو اس وقت تک اس کی نیکی کا کوئی اعتبار نہیں ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page