Urdu book · الربَّانِيَّةُ

اسلامی زندگی

Urdu book, p. 148

By Maulana Wahiduddin Khan

نماز کو دیکھ کر ہنری دی کیسٹرو (Henry de Castro) ایک فرانسیسی افسر تھا۔ الجزائر میں فرانسیسی اقتدار کے زمانہ میں وہ ایک بڑے سرکاری عہدہ پر تعین ہو کر آیا۔ ہنری دی کیسٹرو ایک روز گھوڑے پر سوار ہو کر کہیں جا رہا تھا۔ اس کے پیچھے ۳۰ عرب سوار بھی تھے جو اس کے ماتحت تھے اور ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ اتنے میں عصر کا وقت آگیا۔ انھوں نے اپنے افسر سے کہا لقد حان موعد صلوٰۃ العصر (عصر کی نماز کا وقت آگیا)، اور افسر کی اجازت کا انتظار کئے بغیر اپنے گھوڑے سے اتر گئے۔ اس کے بعد انھوں نے صحرا میں بلند آواز سے اذان دی اور صف باندھ کر نماز کے لئے کھڑے ہو گئے۔ فرانسیسی افسر کو یہ طرز عمل اپنی ہتک معلوم ہوا۔ تاہم وہ چپ رہا اور اپنا گھوڑا روک کر عربوں کی کارروائی دیکھنے لگا۔ صف بستہ نماز کا منظر اسے بے حد متاثر کر رہا تھا۔ جب وہ لوگ نماز پڑھ چکے تو اس نے ان لوگوں سے نماز کے متعلق سوالات شروع کر دئے ۔ اور ان کے جوابات کو بغور سنتا رہا۔ ایک طرف عربوں کی جرأت دوسری طرف نماز باجماعت کا منظر ، ان چیزوں نے اس کو شدید طور پر متاثر کیا۔ واپس آکر اس نے اسلام کا مطالعہ شروع کر دیا۔ اس نے قرآن کا فرانسیسی ترجمہ پڑھا۔ عرب میں عرصہ تک سفر کر کے مسلمانوں کو دیکھا۔ اس کا تاثر بڑھتا رہا۔ یہاں تک کہ اس نے اسلام قبول کر لیا۔ اس کے بعد اس نے اپنے اسلام پر فرانسیسی زبان میں ایک کتاب لکھی جس کا عربی ترجمہ مشہور مصری ادیب فتحی زغلول نے کیا۔ یہ کتاب شائع ہو چکی ہے اور اس کا نام ہے ــــــــــ الاسلام: خواطر وسوانح فرانسیسی افسر نے الجزائریوں کے عمل کو اولاً اکڑ کا معاملہ سمجھا تھا۔ اس لئے اس کے اندر بھی اکثر کے جذبات پیدا ہوگئے۔ مگر الجزائری جب گھوڑوں سے اتر کر رب العلمین کے آگے جھک گئے تو اس کو معلوم ہوا کہ الجزائریوں نے جو کچھ کیا وہ اکڑ کے لئے نہ تھا۔ بلکہ جھکنے کے لئے تھا۔ اب اس کی فطرت جاگ اٹھی۔ یہ منظر دیکھ کر اس کے اندر بھی خدا کے آگے جھکاؤ کے جذبات پیدا ہوگئے۔ یہاں تک کہ وہ خدا کے دین میں داخل ہو گیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page