اسلامی زندگی
Urdu book, p. 147
By Maulana Wahiduddin Khan
جگانے کے لیے سلطان عبد الرحمن الناصر اسپین کا ایک مسلم حکمران تھا۔ اس نے ۲۵ سال کی محنت سے قرطبہ کے پاس ایک شان دار محل بنایا۔ یہ محل چالیس لمبی اور تین میل چوڑی زمین پر واقع تھا، سیکڑوں تاج محل اکٹھا کئے جائیں تب اس کا محل تیار ہوگا۔ اس محل کا نام اس نے الزہرارکھا۔ مگر غیر معمولی طور پر بڑا ہونے کی وجہ سے اس کو قصر الزہرار کے بجائے مدینۃ الزہرار کہنے لگے۔ سلطان عبد الرحمن الناصر کے زمانہ میں ایک بار اسپین میں قحط پڑا۔ بارش رک جانے کی وجہ سے لوگ بے حد پریشان ہو گئے۔ جب حالات بہت سخت ہوئے تو سلطان نے اپنا ایک خاص آدمی قاضی منذر بن سعید کے پاس بھیجا جو قرطبہ کی جامع مسجد کے امام اور قاضی تھے۔ قاصد نے قاضی منذر سے کہا کہ سلطان نے مجھ کو یہ پیغام لے کر بھیجا ہے کہ آپ استسقار کی نماز پڑھائیں۔ اور اللہ تعالی سے بارش کی دعا کریں۔ قاضی منذر نے پوچھا کہ سلطان خود کیا کر رہے ہیں۔ قاصد نے جواب دیا کہ آج سے زیادہ ہم نے کبھی سلطان کو اللہ سے ڈرنے والا نہیں دیکھا۔ میں ان کو اس حال میں چھوڑ کر آیا ہوں کہ وہ زمین پر سجدہ میں پڑے ہوئے تھے۔ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور وہ کہہ رہے تھے کہ خدایا میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے کیا تو میری وجہ سے لوگوں کو عذاب دے گا، حالاں کہ تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے (هذا ل ناصيتي بيدك لاتأخذنا بذنوبي الرعية وانت ارحم الراحمين) قاضی منذر نے کہا: اپنے ساتھ بارش لے کر واپس جاؤ۔ کیونکہ زمین کا حاکم جب تضرع کرتا ہے تو آسمان کا حاکم ضرور رحم فرماتا ہے (إذا خشع جبار الارض ذقد رحم جبارالسماء) چنانچہ قاصد واپس ہو کر سلطان کے پاس پہنچا تھا کہ بارش شروع ہو گئی۔ زمین پر خشک سالی اس لئے آتی ہے تاکہ آنکھوں کی خشک سالی ختم ہو۔ آسمان پر بادل اس لئے گرجتے ہیں تاکہ لوگوں کے دل خدا کے خوف سے دہلیں۔ گرمی کی شدت اس لئے ہوتی ہے کہ لوگ جہنم کی آگ کو یاد کرکے تڑپ اٹھیں۔ صحابہ کرام کا یہ حال تھا کہ تیز آندھی آتی تو وہ مسجد کی طرف بھاگتے کہ کہیں قیامت نہ آگئی ہو۔ مگر جب بے حسی پیدا ہو جائے تو کوئی بھی واقعہ لوگوں کے دلوں کو نہیں پگھلاتا نہ خدا کی نشانیاں ان کے پاس گزرتی ہیں مگر ان کے کان ان کو نہیں سنتے۔ خداروشن سورج بن کر ان کے سامنے آجاتا ہے۔ اس کے باوجود ان کی آنکھیں اس کو دیکھنے سے محروم رہتی ہیں۔ اسی لئے حدیث میں آیا ہے کہ لوگوں میں سب سے زیادہ خدا سے دور وہ ہے جس کا دل بے حس ہو گیا ہو (ان ابعد الناس من الله القلب القاسی)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader