Urdu book · الربَّانِيَّةُ

تاریخی واقعات

Urdu book, p. 152

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلامی حکومت ایک دفعہ احنف بن قیس خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رض سے ملنے کے لیے آتے۔ ان کے ساتھ دوسرے رؤسائے عرب بھی تھے ۔ دیکھا تو عمر فاروق دامن اٹھائے ہوئے ادھر سے ادھر جا رہے ہیں۔ احنف کو دیکھ کر انھوں نے کہا : ” بیت المال کا ایک اونٹ بھاگ گیا ہے ۔ میں اس کو تلاش کر رہا ہوں ، آؤ تم بھی میرا ساتھ دو “ ایک شخص نے کہا کہ امیر المؤمنین ، آپ کیوں تکلیف اٹھاتے ہیں ، کسی عبد ( غلام ) کو حکم دیجیے وہ ڈھونڈ کر لے آئے گا۔ حضرت عمر نے کہا : اَیُّ عَبْدِ اعْبَدُمِنِّي مجھ سے زیادہ غلام کون ہے اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کا مزاج کیا ہوتا ہے۔ مومن خواہ بظاہر ایک عام حیثیت کا آدمی ہو یا وہ ملکوں کا حکمراں ہو ، ہر حال میں وہ یکساں رہتا ہے ۔ دونوں جگہ اس کی نفسیات ایک ہوتی ہے۔ یہ کہ وہ اللہ کا بندہ ہے ۔ یہی بندۂ خدا ہونے کا احساس ہے جو آدمی کو ہر حال میں عدل اور تواضع پر قائم رکھتا ہے۔ وہ چیز جس کو اسلامی حکومت کہا جاتا ہے وہ کسی ” نظام “ کا نام نہیں ۔ وہ حقیقتاً اسی قسم کے افراد کا نام ہے ۔ جب اقتدار اس قسم کے خدا ترس افراد کے قبضہ میں ہو تو اسی کا نام اسلامی حکومت ہے ۔ اور جب حکومت کے معاملات غیر خدا ترس افراد کے قبضہ میں چلے جائیں تو اسی کا نام غیر اسلامی حکومت ہے ۔ زندگی میں اصل فیصلہ کن چیز افراد ہیں نہ کہ نظام۔ اس قسم کے اعلیٰ افراد ہمیشہ فکری تحریکوں سے بنتے ہیں ، وہ حکومت کے زور پر کبھی نہیں بنتے۔ سچی اسلامی حکومت قائم کرنے کے لیے وہ انسان درکار ہیں جو اللہ کے سامنے جواب دہی کے احساس سے کانپتے ہوں ۔ اور کسی حکومتی طاقت کے بس میں نہیں کہ وہ ایسے انسان وجود میں لاسکے ۔ ایسے انسان ذہنی انقلاب کے ذریعہ بنتے ہیں نہ کہ سادہ معنوں میں سیاسی اور حکومتی انقلاب کے ذریعہ ۔ یہ سمجھنا کہ حکومت کی طاقت سے ایسے انسان بنائے جاسکتے ہیں ، یہ حکومت کی طاقت کا برتر اندازہ ہے اور انسان کی صلاحیت کا کمتر اندازہ ۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے انسان خود آدمی کے اندر ربانی انقلاب آنے سے بنتے ہیں نہ کہ خارجی نوعیت کے کسی سیاسی انقلاب سے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page