تاریخی واقعات
Urdu book, p. 153
By Maulana Wahiduddin Khan
ذاتی محنت حضرت عبد الرحمن بن عوف مشہور صحابی ہیں۔ وہ مکہ میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے حضرت ابو بکر صدیق کی تبلیغ سے اسلام قبول کیا۔ ہجرت کا حکم آنے کے بعد اپنا وطن چھوڑ کر مدینہ چلے گئے ۔ وہ اسلام کی تمام مہموں میں شریک رہے۔ خلیفہ سوم حضرت عثمان کے زمانہ میں وفات پائی۔ ہجرت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین اور انصار کے درمیان مواخاۃ قائم کی تھی ۔ اس کے مطابق ، حضرت عبد الرحمن بن عوف کی مواخاۃ حضرت سعد بن ربیع انصاری سے قائم کی گئی ۔ وہ جب حضرت سعد کے گھر گئے تو انھوں نے کہا کہ اے میرے بھائی ، میں مدینہ میں سب سے زیادہ مالی والا ہوں۔ آپ اس کو دیکھ لیں اور میرا آدھا مال اپنے لیے لے لیں ۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف نے کہا کہ اللہ آپ کے مال میں آپ کو برکت دے ۔ مجھے تو آپ بازار کا راستہ بتا دیں ۔ چنانچہ انھوں نے حضرت عبد الرحمن بن عوف کو بازار کا راستہ بتا دیا ۔ وہ بازار گئے اور خرید و فروخت کی اور کافی نفع کمایا ( ۳۸۰ / ۱ ) حضرت عبد الرحمن بن عوف نے مدینہ کے مقامی بازار سے اپنا کام شروع کیا تھا ۔ اس کے بعد ان کا کام بڑھا اور وہ اپنے تجارتی قافلے شام کے ملک میں بھیجنے لگے جو اس زمانہ میں بین اقوامی تجارتی سنڈی کی حیثیت رکھتا تھا۔ انھوں نے اپنے اموال سے اسلام اور مسلمانوں کی بہت زیادہ مدد کی ۔ ایک مہم کے موقع پر انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چالیس ہزار دینار دیا۔ ایک بار پانچ سو گھوڑے اور پانچ سو اونٹ دیئے۔ غزوہ تبوک کے موقع پر دو سو اوقیہ سونا دیا۔ ایک بار سات سو اونٹ سامان خوراک سے لدے ہوئے شام آئے۔ وہ سب کا سب مع اونٹ انھوں نے صدقہ کر دیا۔ ان کا اکثر مال انھیں تجارت کے ذریعہ حاصل ہوا تھا ( ۶۷ - ۲ / ۱۹۶ ) حضرت عبد الرحمن بن عوف مکہ میں اپنا مکان اور اپنی جائداد رکھتے تھے ۔ وہ سب انھوں نے چھوڑ دیا۔ مدینہ میں ان کے لیے موقع تھا کہ وہ وہاں کے مال دار ترین شخص کا آدھا مال بلا محنت حاصل کر لیں۔ مگر اس کو بھی انھوں نے قبول نہیں کیا ۔ انھوں نے اللہ کے دیئے ہوئے ہاتھ پاؤں پر اور اپنی محنت پر بھروسہ کیا۔ اللہ نے ان کے کام میں اتنی ترقی دی کہ وہ مدینہ کے سب سے بڑے مال دار بن گئے ۔ لینے والا شخص خود سب سے زیادہ دینے والا شخص بن گیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader