تاریخی واقعات
Urdu book, p. 158
By Maulana Wahiduddin Khan
روحیں منتظر ہیں کریٹ (Crete) یونان کا ایک جزیرہ ہے ۔ یہاں 1469 میں ترکوں کا قبضہ ہوا اور اس کے بعد یونانیوں اور ترکوں کے درمیان کئی لڑائیاں ہوئیں ۔ آخر کار 1898ء میں کریٹ سے ترک اقتدار کا خاتمہ ہو گیا ۔ اس بنا پر ترکوں کی تاریخ میں کریٹ کے واقعات کا تذکرہ بھی لازمی طور پر شامل رہتا ہے ۔ محمد حفیظ اللہ قریشی مرحوم نے 1922 میں لاہور سے ایک کتاب شائع کی تھی جس کا نام تھا "تاریخ سلاطین آل عثمان" ۔ ڈھائی سو صفحہ کی اس کتاب میں خاندان عثمانیہ (ترکوں) کے حالات بیان کیے گئے ہیں ۔ اس میں سلطنت عثمانیہ کی ابتدا سے لے کر سلطان عبد المجید ثانی کی معزولی تک کے حالات مختصر طور پر درج ہیں ۔ کریٹ کے ساتھ ترکوں کی جنگ کے حالات لکھتے ہوئے کتاب میں بتایا گیا ہے : 1066ھ میں بندقیہ والوں کا ایک عیسائی امیر البحر مع 30 سپاہیوں کے سلطان محمد خاں رابع (1099-1059ھ) سے آملہ ۔ اور آستانہ (ترکی) میں آکر اس نے صدق دل سے مذہب اسلام قبول کر لیا ۔ چنانچہ سلطان نے اس کی قدر افزائی کی ۔ اور اس کو کارخانہ جہاز سازی کا نگراں بنا دیا۔ اس نے اپنی حسن کارگزاری سے سلطان کو ہی خوش نہیں کیا بلکہ اسلام کی بے حد خدمت بجا لایا اور اپنے گزشتہ گناہوں کی تلافی مافات کر دی ۔ (صفحہ 106-105) اسلامی تاریخ میں اس طرح کے واقعات بہت ملتے ہیں کہ عین جنگ کے زمانہ میں دشمن کے افراد نے اسلام قبول کر لیا ۔ وہ عین ہنگامہ کارزار میں دشمن کی صف کو چھوڑ کر اہل اسلام کی صف میں شامل ہو گئے ۔ ان واقعات سے اسلام کی تسخیری طاقت کا اندازہ ہوتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام فطرت کا دین ہے ۔ وہ اپنے اندر ہر آدمی کے لیے بے پناہ کشش رکھتا ہے ۔ ہر آدمی کے دل میں اسلام کی طلب چھپی ہوئی ہے ۔ ہر روح اس انتظار میں ہے کہ کب موقع ملے اور وہ خدا کی ابدی دنیا میں داخل ہو جائے ۔ اسلام کی یہ تسخیری طاقت اتنی زبردست ہے کہ جنگ بھی اس کے لیے رکاوٹ نہیں ۔ عداوت کی فضا بھی اس کی راہ میں حائل نہیں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader