تاریخی واقعات
Urdu book, p. 159
By Maulana Wahiduddin Khan
تاریخ سے راجر دوم (۱۱۵۴ - ۱۰۹۵) سسلی کا بادشاہ تھا۔ وہ نارمن سلطنت کا بانی تھا۔ قرون وسطیٰ کے مغربی بادشاہوں میں اس کو ایک ممتاز مقام حاصل ہے۔ اس کا دارالسلطنت پلرمو (Palermo) تھا۔ راجر دوم نے سسلی کو ایک خوش حال ملک بنا دیا۔ ایک مضبوط انتظامیہ قائم کی۔ طاقت ور بحری بیڑہ تیار کیا۔ راجر دوم کو یہ کامیابی ، ایک مغربی مورخ کے الفاظ میں ، اس لیے ملی کہ اس نے سسلی کو یورپی اور عربی علما کا مرکز بنا دیا تھا : Roger made Sicily a meeting place of Euro- pean and Arabic scholars. (VIII/634) الادلیسی اسی راجر دوم کا ہم عصر تھا۔ وہ مراکش میں پیدا ہوا۔ اس نے اسپین کی یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور ایشیا اور افریقہ اور یورپ کے سفر کیے۔ وہ علم جغرافیہ میں اپنے وقت کا سب سے بڑا ماہر رکھتا۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (۱۹۸۲) کے مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ راجر دوم نے الادلیسی کو سسلی بلایا تا کہ اس کے لیے وہ دنیا کا ایک نقشہ بنائے۔ الادلیسی راجر دوم کا ایک قریبی دوست اور مشیر تھا۔ سسلی کے اس نارمن بادشاہ کے دربار میں الادلیسی سرکاری جغرافیہ داں کے طور پر رہا : Al-Idrisi was a close friend and adviser to Roger II, at whose court he served as official geographer. Roger II invited Al-Idrisi to Sicily to make a map of the world for him. (9/198) گزرے ہوئے زمانہ میں مسلمانوں کو جو اونچا مقام ملا اور انھوں نے ساری دنیا میں اسلام کا جو غلبہ قائم کیا، اس کا راز یہی تھا۔ یہ عظمت انھیں نہ احتجاج اور مطالبہ سے ملی اور نہ تیر اور تلوار سے یہ عظمت انھیں صرف اس لیے ملی کہ وہ دنیا کے لیے مفید بنے۔ انھوں نے علوم و فنون میں اتنی ترقی کی کہ وہ دنیا کے فکری امام بن گئے۔ انھوں نے صدیوں تک انسانیت کی علمی رہنمائی کی۔ انھوں نے دنیا کو وہ دیا جو دنیا کے پاس موجود نہ ہوتا۔ یہی امامت کا راز ہے، ماضی کے لیے بھی اور حال اور مستقبل کے لیے بھی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader