Urdu book · الربَّانِيَّةُ

الربَّانِيَّةُ

Urdu book, p. 15

By Maulana Wahiduddin Khan

مومن کون لوگ چیزوں کو دیکھتے ہیں ، مومن چیزوں میں خدا کو دیکھتا ہے۔ لوگ چیزوں میں اٹک کر رہ جاتے ہیں ، مومن وہ ہے جو چیزوں سے گزر کر خدا تک پہو نچ جائے ۔ پھل کو درخت سے گرتے ہوئے ہر شخص نے دیکھا ہے۔ مگر جس نے درخت سے پھل گرنے کے واقعہ میں گریویٹی (قوتِ کشش ) کو دیکھا وہ نیوٹن بن گیا۔ میٹر (مادہ) کو ہر شخص دیکھتا ہے ، مگر جس نے میٹر میں الیکٹران کی حرکت کو دیکھا وہ مائیکل فریڈے بن گیا۔ ذرہ ہر جگہ ہے اور ہر شخص اس کو دیکھ رہا ہے ۔ مگر جس نے ذرہ میں نیوکلیئر فورس (جو ہری طاقت) کو دیکھا وہ آئنسٹائن بن گیا۔ اسی طرح دنیا کو ہر شخص دیکھتا ہے مگر جو شخص دنیا میں خدا کو دیکھ لے وہی مومن ہے۔ بائبل میں ایک تمثیل دی گئی ہے کہ جس کے پاس سننے کے لیے کان ہوں وہ سن لے ۔ پس اس زمانہ کے لوگوں کو میں کس سے تشبیہہ دوں ۔ وہ ان لڑکوں کی مانند ہیں جو بازاروں میں بیٹھے ہوئے ہیں اور اپنے ساتھیوں کو پکار کر کہتے ہیں : ہم نے تمہارے لیے بانسری بجائی ، اور تم نہ ناچے ۔ ہم نے تمہارے لیے ماتم کیا اور تم نہ روئے ۔ خدا اس دنیا میں ہر وقت اپنی بانسری بجارہا ہے ۔ ایسا اس لیے ہو رہا ہے کہ انسان اس کو سنے اور اس سے سرشار ہو کر رقص کرے۔ مگر انسان عین اس خدائی بانسری کے درمیان بے حس اور بے خبر بنا ہوا پڑا رہتا ہے۔ خدا اس دنیا میں ایسے واقعات ظاہر کرتا ہے کہ لوگ اس کو دیکھ کر تڑپیں ، لوگ اپنے آنسوؤں سے اس کا استقبال کریں۔ مگر انسان اتنا بئ الم ہے کہ تڑپانے والے واقعات کو دیکھ کر کبھی وہ نہیں تڑپتا ، رلانے والے واقعات سے دوچار ہونے کے باوجود وہ نہیں روتا ۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ خدا کی خدائی کا اعتراف کرے۔ مگر انسان اس کے لیے تیار نہیں ہوتا ۔ آج انسان ایک لفظ اسے کر چھوٹ سکتا ہے۔ کل وہ دن آنے والا ہے جب کہ وہ ساری کائنات دے کر بھی چھوٹ نہ سکے گا۔ کیسا عجیب ہے انسان کا آج ، اور کیسا عجیب ہو گا انسان کا کل جس کے آنے میں کچھ دیر نہیں ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page