الربَّانِيَّةُ
Urdu book, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
تقویٰ اور اخلاق سُئِلَ رسولُ اللہِ صلی اللہ علیہ وسلم عن اکثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ وہ کیا چیز ما يُدْ خُلُ الناسَ الجنةَ۔ قال: تقوى اللہ ہے جو سب سے زیادہ لوگوں کو جنت میں لے جائے وحُسْنُ الخلق (رواه الترمذی) گی۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ کا ڈر، اور اچھا اخلاق۔ انسان خدا کا بندہ ہے۔ اسی کے ساتھ موجودہ دنیا میں اس کو دوسرے انسانوں کے ساتھ رہنا ہوتا ہے۔ اس طرح آدمی بیک وقت دو تعلق کے درمیان ہوتا ہے۔ ایک خدا سے تعلق۔ اور دوسرا، انسانوں سے تعلق۔ اس اعتبار سے انسان کے امتحان کے دو پہلو ہوجاتے ہیں۔ اور امتحان کے ان دونوں پرچوں میں اس کو پورا اترنا ہے۔ خدا کی نسبت سے جو چیز مطلوب ہے وہ یہ کہ آدمی خدا کو اپنا خالق و مالک سمجھے۔ وہ خدا کی عظمتوں کے احساس سے سرشار ہو۔ اس عقیدہ اور اس احساس سے کسی کے اندر جو قلبی کیفیت پیدا ہوتی ہے، اسی کا نام تقویٰ ہے۔ خدا بڑا ہے، انسان چھوٹا ہے۔ خداتادربہے۔ انسان عاجز ہے۔ خدا دینے والا ہے، انسان پانے والا ہے۔ ان حقیقتوں کا شعور آدمی کے اندر اعتراف اور تواضع اور مسئولیت کا احساس پیدا کرتا ہے۔ اس کے اندر سرکشی کا مزاج ختم ہو جاتا ہے۔ وہ خدا کی محبت اور خوف کے جذبات کے تحت دنیا میں زندگی گزارنے لگتا ہے۔ اس قسم کا انسان جب دوسرے انسانوں کے درمیان آتا ہے، تو ان سے معاملہ کرتے ہوئے اس کی پوری روش حسن اخلاق میں ڈھل جاتی ہے۔ اس کا بول تو اضع کا بول ہوتا ہے۔ اس کا عمل انصاف کا عمل ہوتا ہے۔ وہ ایک ایسے انسان کی طرح زندگی گزارنے لگتا ہے جو یہ دیکھ رہا ہو کہ اس کے اوپر اس کا خدا کھڑا ہوا اس کی نگرانی کررہا ہے۔ وہ اس کے ہر قول وفعل کا حساب لینے والا ہے۔ ایسے انسان سے جو حسنِ اخلاق ظاہر ہو، اسی کا نام حسنِ خلق ہے۔ جو آدمی ان دونوں امتحانوں میں پورا اترے، وہی وہ شخص ہے جس کو جنت کے ابدی باغوں میں داخل کیا جائے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader