Urdu book · الربَّانِيَّةُ

تاریخی واقعات

Urdu book, p. 168

By Maulana Wahiduddin Khan

نزولی تکمیل نہ ارتقائی تکمیل قرآن کی سورہ نمبرہ میں کہا گیا ہے کہ آج میں نے تمھارے لئے تمھارے دین کو پورا کر دیا ۔ اور تمھارے او پر اپنی نعمت تمام کر دی ۔ اور تمھارے لئے میں دین اسلام پر راضی ہو گیا۔ اس آیت میں اکمال دین سے مراد علی الاطلاق دین خداوندی کی تکمیل نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کے لئے ان کے دین کی تکمیل ہے۔ یہاں اکمال کا مفہوم وہی ہے جس کے لئے انگریزی میں to conclude کا لفظ بولا جاتا ہے۔ یعنی قرآن کے نام سے خدا کی جو عربی کتاب جز جز ہو کر کے اتر رہی تھی اور ۲۳ سال تک اترتی رہی، اب اس کا آخری جزء آ گیا اور قرآن کے نزول کی تکمیل ہو گئی۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ انسانیت کے ابتدائی زمانہ سے جو دین اترنا شروع ہوا، وہ ارتقائی سفر کرتے کرتے اب اپنی آخری تکمیل صورت میں نازل کر دیا گیا ہے۔ قرآن کی اس آیت میں قرآن عربی کی نزولی تکمیل مراد ہے نہ کہ علی الاطلاق دین خداوندی کی ارتقائی تکمیل۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کی آیت (المائدہ ۳) میں الیوم اکملت لكم دینكم کہ آج میں نے تمھارے لئے تمھارے دین کو کامل کر دیا) کے الفاظ ہیں نہ کہ الیوم اکملت الدین (آج میں نے دین کو کامل کر دیا) کے الفاظ ۔ آیت کے یہ الفاظ انکار کرتے ہیں کہ اس سے مطلق معنوں میں دین کا مکمل کیا جانا مراد لیا جائے۔ اللہ کی کتاب ہدایت اصلاً ایک ہی ہے جس کو قرآن میں ام الکتاب کہا گیا ہے۔ مختلف انبیار پر جو کتا بیں اتریں وہ اسی ام الکتاب کے ایڈیشن تھے۔ ایک کتاب اور دوسری کتاب میں جو فرق ہے وہ زبان اور اسٹائل کا ہے نہ کہ ناقص اور کامل کا۔ تاہم پیغمبر آخرالزمان کے بعد اب نجات کا ذریعہ صرف قرآن اور اسلام ہے۔ پچھلی کتا بیں یا پچھلا مذہب اب کسی کے لئے نجات کا ذریعہ نہیں بن سکتے۔ اس کی وجہ صرف ایک ہے۔ اور وہ ہے محفوظ اور غیر محفوظ کا فرق ۔ قرآن اپنی اصل ابتدائی حالت میں مکمل طور پر محفوظ ہے۔ جب کہ اس سے پہلے کی دوسری کتابیں اپنی اصل حالت پر محفوظ نہیں۔ قرآن اور دوسری کتابوں کا یہ فرق تاریخی طور پر ثابت شدہ ہے ۔ اس میں علمی طور پر کسی قسم کے شبہہ کی گنجائش نہیں۔ اب ظاہر ہے کہ خدا کی کتاب کا جو ایڈیشن محفوظ حالت میں موجود ہو وہی لوگوں کے لئے ہدایت اور نجات کا ذریعہ بنے گا نہ کہ وہ کتابیں جن میں انسانوں نے تحریف کر ڈالی ہے۔ جو اپنی اس اصل حالت پر محفوظ ہی نہیں جس پر خدا نے انھیں اتارا تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page