Urdu book · الربَّانِيَّةُ

تاریخی واقعات

Urdu book, p. 169

By Maulana Wahiduddin Khan

ناقص تشریح قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ میں نے جن اور انسان کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں (الذاریات (۵۶) اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے ایک مشہور مصنف لکھتے ہیں : "عبادت کا لفظ اس آیت میں محض نماز ، روزے اور اسی نوعیت کی دوسری عبادات کے معنی میں استعمال نہیں کیا گیا ہے کہ کوئی شخص اس کا مطلب یہ لے لے کہ جن اور انسان صرف نماز پڑھنے اور روزے رکھنے اور تسبیح و تہلیل کرنے کے لیے پیدا کیے گیے ہیں۔ یہ مفہوم بھی اگر چہ اس میں شامل ہے مگر یہ اس کا پورا مفہوم نہیں ہے۔ اس کا پورا مفہوم یہ ہے کہ جن اور انسان اللہ کے سوا کسی اور کی پرستش ، اطاعت ، فرماں برداری اور نیاز مندی کے لیے پیدا انہیں کیے گیے ہیں۔ ان کا کام کسی اور کے سامنے جھکنا ، کسی اور کے احکام بجالانا ، کسی اور سے تقویٰ کرنا ، کسی اور کو اپنی قسمتوں کا بنانے اور بگاڑنے والا سمجھنا ، اور کسی دوسری ہستی کے آگے دعا کے لیے ہاتھ پھیلانا نہیں ہے ۔" مذکورہ تشریح میں عبادت کو چار چیزوں کا مجموعہ بتایا گیا ہے ـــــــــ پرستش ، اطاعت ، فرماں برداری ، نیاز مندی ۔ محترم مصنف کے نزدیک یہ عبادت کا " پورا مفہوم " ہے۔ لیکن گہرائی کے ساتھ دیکھا جائے تو یہ پورا مفہوم اس کا صرف ناقص مفہوم ہے ۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ محبت نام ہے چار چیزوں کا : دل سے چاہنا ، ملاقات کرنا ، باتیں کرنا ، ایک ساتھ کھانا ۔ تو اس کو محبت کا ناقص مفہوم کہا جائے گا نہ کہ اس کا پورا مفہوم۔ کیوں کہ محبت چار چیزوں کا مجموعہ نہیں ۔ محبت اصلاً صرف ایک چیز کا نام ہے اور وہ دل سے چاہنا ہے ۔ اس کے سوا جو چیزیں ہیں وہ محبت کے مظاہر ہیں نہ کہ محبت کے مجموعہ کے چار مساوی اجزاء ۔ اسی طرح عبادت اصلاً صرف ایک چیز کا نام ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ آدمی حقیقی معنوں میں اپنے رب کا پرستار بن جائے ۔ بقیہ جو چیزیں شریعت میں ہیں وہ اسی اصل عبادت کے مظاہر ہیں۔ وہ اس اصل عبادت کے پیدا ہونے کے بعد لازمی نتیجہ کے طور پر آدمی کی زندگی میں ظہور کرتی ہیں ۔ اگر پرستاری ہوگی تو بقیہ چیزیں بھی ہوں گی ، اور اگر پرستاری نہیں ہوگی تو یقینی طور پر بقیہ چیزیں بھی نہیں ہوں گی ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس تشریح نے عبادت کے مفہوم کو محدود کر دیا ، اگرچہ نادانی کی بنا پر محترم شارح یہ سمجھ رہے ہیں کہ انھوں نے اس کو جامع اور مکمل بنایا ہے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page