الربَّانِيَّةُ
Urdu book, p. 17
By Maulana Wahiduddin Khan
حسرت کا دن قرآن میں قیامت کے دن کو ندامت اور حسرت کا دن (مریم ۳۹) کہا گیا ہے۔ قیامت کے دن جب تمام حقیقتیں کھلیں گی تو آدمی اچانک محسوس کرے گا کہ دنیا میں کیسے کیسے قیمتی موقع تھے جب کہ وہ خدا پرستی کا ثبوت دے کر آخرت میں اس کا انعام پا سکتا تھا۔ مگر اس وقت اس نے یہ مواقع کھو دیئے اور اب یہ مواقع کبھی اس کے لیے آنے والے نہیں۔ مواقع کو کھونے کا یہ احساس بلاشبہ سب سے بڑی نفسیاتی سزا ہوگی جو ابدی طور پر آدمی کو تڑپاتی رہے گی۔ دوسری جگہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : و انہ لتذكرة للمتقين۔ وانانعلم ان منکم اور بلاشبہ یہ یاد دہانی ہے ڈرنے والوں کے مکذبین۔ و انہ لحسرة على الكافرين لیے۔ اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں اس کے جھٹلانے (الحاقة ۴۸ - ۵۰) والے ہیں اور وہ منکروں کے لیے پچھتاوا ہے۔ دنیا میں بار بار آدمی کے سامنے وہ مواقع آتے ہیں جب کہ وہ ایک عمل کر کے آخرت کا انعام حاصل کر سکے ۔ مگر آدمی ظلم اور عُلو (النمل ۱۴) کی بنا پر مطلوبہ عمل نہیں کرتا۔ ایسے لوگ دنیا سے نکل کر آخرت میں پہونچیں گے تو اچانک وہ محسوس کریں گے کہ یہاں ان کے لیے حسرت اور پیشمانی کے سوا اور کچھ نہیں۔ اب ایک ایک کر کے انھیں وہ گزرے ہوئے لمححات یاد آئیں گے جب کہ ان کے سامنے آخرت کے لیے عمل کرنے کا ایک موقع آیا ، مگر انھوں نے اس موقع کو بے در دانہ پرکھودیا۔ اس وقت آدمی کہے گا کہ آہ ، میرے سامنے امر حق ظاہر ہوا جس کا ساتھ دے کر میں حق کا اعتراف کرنے والا بن سکتا تھا۔ مجھے موقع ملا کہ میں حق کو اس کے حقدار کے حوالہ کر دوں ۔ مجھے یہ موقع ملا کہ میں حق کی گواہی دینے والا بنوں ۔ مجھے یہ موقع ملا کہ میں درست بات کہوں ، خواہ وہ میرے موافق ہو یا میرے خلاف۔ مجھے موقع ملا کہ میں ان لوگوں میں بنوں جو خدا کے خوف سے اپنی زبان بند کر لیتے ہیں، مگر ان مواقع کو میں نے کھودیا۔ میں اپنے آپ کو خدا کے مطلوب بندوں کی فہرست میں درج نہ کراسکا۔ میں نے دنیا میں نیکی کے مواقع کو کھویا رہتا، اس لیے آخرت میں انعام کے مواقع میں بھی اب میرا کوئی حصہ نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader