تجلیاتِ حق
Urdu book, p. 180
By Maulana Wahiduddin Khan
جنت ، جہنم عن ابو هریرة، قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ ابوہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ وسلم: مارأیت مثل النار نام هاربهـا وما میں نے جہنم جیسی چیز نہیں دیکھی جس سے بھاگنے والا رأیت مثل الجنة نام طالبها۔ سو گیا ہو۔ اور میں نے جنت جیسی چیز نہیں دیکھی جس (رواه الترمذی) کا چاہنے والا سو گیا ہو۔ آدمی کو سب سے زیادہ جہنم سے بھاگنا چاہئے۔ مگر آدمی جہنم کے مسئلہ کو بالکل بھولا ہوا ہے۔ آدمی کو سب سے زیادہ جنت کا طالب بننا چاہیے، مگر اس کے اندر جنت کو حاصل کرنے کا کوئی شوق نہیں۔ یہی دو لفظ میں تمام انسانوں کی کہانی ہے۔ انسانوں کا یہ حال کیسا عجیب ہے۔ لوگ احساس کے درجہ میں بھی جہنم سے اندیشہ ناک نہیں۔ لوگ تمنا کے درجہ میں بھی جنت خداوندی کے طالب نہیں۔ ایسی حالت میں یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ جہنم کی آگ سے نجات پائیں اور ان کے لیے جنت کی نعمتوں کے دروازے کھولے جائیں۔ لوگوں کے اندیشے کسی اور چیز کے لیے ہیں۔ ان کے جذبات کسی اور بات پر بھڑکتے ہیں۔ ان کے اندر چھپے ہوئے خوف اور امید کے جذبات کسی اور چیز کے لیے وقف ہیں۔ ایسی حالت میں کیوں کر ایسا ہو سکتا ہے کہ وہ خدا کی رحمتوں کے مستحق قرار دیئے جائیں۔ مسئلہ دنیا کو لوگوں نے اپنا مسئلہ بنا رکھا ہے۔ مسئلہ آخرت کو کسی نے اپنا مسئلہ نہیں بنایا۔ دنیا کی دولت ، دنیا کی قیادت ، دنیا کی مقبولیت ، دنیا کی نیک نامی ، یہی سب چیزیں لوگوں کی توجہات کا مرکز ہیں ۔ آج کی دنیا میں کوئی نہیں جو آخرت کی بخشش اور آخرت کی نجات کے معاملہ میں فکر مند ہو۔ آخرت کے عذاب کا خوف اور آخرت کی جنت کی حرص جس کو سراسیمہ بنا دے۔ آہ وہ دنیا، جہاں سب کچھ ہو، مگر وہی چیز نہ ہو جس کو سب سے زیادہ ہونا چاہئے۔ آہ وہ انسان، جو سب کچھ جانے، مگر وہی بات نہ جانے جس کو اسے سب سے زیادہ جاننا چاہیے۔ یہ بلاشبہ سب سے بڑی بھول ہے۔ ایک وقت آئے گا کہ آدمی اپنی اس بھول کو جانئے گا۔ مگر وہ جاننا صرف حسرت کے لیے ہوگا نہ کہ کھوئے ہوئے کی تلافی کے لیے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader