تجلیاتِ حق
Urdu book, p. 181
By Maulana Wahiduddin Khan
کچھ نہیں سولہواں لوئی (Louis XVI) فرانس کا آخری بادشاہ تھا۔ وہ ۱۷۵۴ء میں پیدا ہوا اور ۱۷۹۳ء میں اس کی وفات ہوئی۔ اسی بادشاہ کے زمانہ میں فرانس کا جمہوری انقلاب (۱۷۸۹ء) آیا۔ اس انقلاب کی کامیابی کے بعد اس کو گرفتار کر لیا گیا۔ ابتداً وہ قید میں رہا۔ اس کے بعد ۲۱ جنوری ۱۷۹۳ء کو اسے اس جرم میں قتل کر دیا گیا کہ وہ انقلاب فرانس کے خلاف بیرونی طاقتوں سے ساز باز کر رہا تھا تاکہ اپنی کھوئی ہوئی سلطنت کو دوبارہ حاصل کر سکے۔ فرانس کے اس آخری بادشاہ لوئی کے بارے میں ایک مورخ لکھتا ہے کہ اس کی یہ عادت تھی کہ وہ روزانہ اپنی ڈائری تحریر کرے۔ اس ڈائری میں ہر روز وہ کسی تقرر، کسی واقعہ، کسی ملاقات کا مختصر اندراج کرتا تھا۔ ۱۴ جولائی ۱۷۸۹ء کو اس نے بہت زیادہ وقت شکار میں گزارا تھا۔ رات کے وقت اس نے اس تاریخ کو اپنی ڈائری میں شکستہ انداز سے صرف ایک لفظ لکھ دیا ــــــ کچھ نہیں : It was the habit of King Louis XVI of France to keep a daily dairy. In it he would make a brief entry every day about an appointment, an event, or a meeting. On July 14, 1789, he had spent long hours hunting. At night he scribbled one short word against that date: "Nothing". فرانس کے بادشاہ کی ڈائری کا ۱۴ جولائی کا صفحہ ہر آدمی کی زندگی کا آخری صفحہ ہے۔ یہ صرف ایک ناکام بادشاہ کی کہانی نہیں، بلکہ یہی تمام انسانوں کی کہانی ہے۔ ہر آدمی اپنے آپ کو کسی سرگرمی میں مصروف کیے ہوئے ہے ۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں کچھ کر رہا ہوں ۔ میں اپنے آخری دن کے لیے کچھ حاصل کر رہا ہوں۔ مگر جب دن ختم ہوتا ہے اور اس کی زندگی کا آخری لمحہ آتا ہے تو وہ حیرانی کے ساتھ دیکھتا ہے کہ اس نے کچھ حاصل نہیں کیا۔ اس کی زندگی کی کتاب کے آخری صفحہ پر کچھ نہیں (Nothing) لکھا ہوا ہے ۔ کیسا عجیب ہے وہ عمل جو بے عملی ہو۔ کیسی عجیب ہیں وہ سرگرمیاں جو آخر میں صرف "کچھ نہیں" بن کر رہ جائیں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader