Urdu book · الربَّانِيَّةُ

دعوت الی اللہ

Urdu book, p. 188

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلامی دعوت قرآن کی ایک سورہ میں قرآنی دعوت کا خلاصہ ان لفظوں میں آیا ہے : ام لم ينبأ بما فى صحف موسى و ابراهيم الذى کیا اس کو اس کی خبر نہیں پہنچی جو موسیٰ کے صحیفوں میں وفے ۔ الا تزر وازرة وزر اخرى وان ليس ہے اور ابراہیم کے جس نے پوری تعمیل کی۔ یہ کوئی للانسان الا ما سعى ۔ وان سعيه سوف يرى بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ ثم يجزاه الجزاء الاوفى ۔ وان الى ربك اور یہ کہ انسان کو وہی ملے گا جو اس نے کمایا۔ اور یہ کہ المنتهى ( النجم ۳۶-۳۷ ) انسان کی سعی جلد دیکھی جائے گی۔ پھر اس کو اس کا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اور یہ کہ تیرے رب کے پاس ہی پہنچنا ہے۔ ان آیات میں جو انداز دعوت ملتا ہے اس کا نمونہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تقریروں میں بھی موجود ہے۔ مثلاً آپ ہجرت کر کے مدینہ آئے تو آپ نے اپنی پہلی تقریر میں فرمایا : من استطاع ان يقى وجهه من النار ولو بشق من جو شخص اپنے چہرہ کو آگ سے بچاسکے وہ بچائے ، خواہ تمرة فليفعل ومن لم يجد فبكلمة طيبة وہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعہ ہو۔ اور جو شخص یہ بھی ( سيرة ابن هشام، جزء ثانی ۱۱۸) نہ پائے تو ایک پاک بول کے ذریعہ۔ صحابہ کرام کی تبلیغ کا انداز بھی یہی تھا ۔ مثال کے طور پر عمرو بن میمون آودی کہتے ہیں : قام فينا معاذ بن جبل فقال : يا بنى اود ، انی رسول معاذ بن جبیل ظاہر ہمارے درمیان کھڑے سے ہوئے اور تقریر رسول الله صلى الله عليه وسلم اليکم ۔ تعدمون کرتے ہوئے کہا کہ اے بنی أود ، میں تمہاری طرف خدا ان المعاد الى الله الى الجنة او الى النار کے رسول کا بھیجا ہوا قاصد ہوں۔ جان لو کہ خدا ہی ( مختصر تفسير ابن كثير، جلد ثالث ، صفحه ۴۰۴ ) کی طرف لوٹنا ہے۔ یہ لوٹنا یا جنت کی طرف ہوگا یا آگ کی طرف۔ اسلامی دعوت در اصل خدا اور آخرت کی یاد دہانی ہے۔ انسان کو خدا سے جوڑنا اور آخرت کی پکڑ کا زندہ احساس پیدا کرنا ہی وہ اصل کام ہے جس پر اسلامی دعوت مرتکز رہتی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page