دعوت الی اللہ
Urdu book, p. 189
By Maulana Wahiduddin Khan
تبلیغی طاقت قرآن میں ایک مضمون دو مقامات پر بیان ہوا ہے، یہاں ہم دونوں آیتیں نقل کرتے ہیں : او لم یروا انا ناتی الارض ننقصها من اطرافها کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے والله يحكم لا معقب لحكمه وهو گھٹاتے چلے آرہے ہیں۔ اور اللہ فیصلہ کرتا ہے۔ کوئی (الرعد: ۴۱) اس کے فیصلے کو پیچھے ڈالنے والا نہیں۔ اور وہ جلد سریع الحساب حساب کرنے والا ہے۔ افلا يرون انانا ناتی الارض ننقصها من کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے اطرافها انهم الغالبون (الانبیاء: ۴۴) گھٹاتے چلے آرہے ہیں۔ کیا پھر بھی وہی غالب آنے والے ہیں۔ ان آیات کا پس منظر یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں اپنی دعوت کا آغاز کیا تو مکہ کے اکابر اور سرداروں نے آپ کو رد کر دیا۔ انھوں نے آپ کے ساتھیوں کو بہکایا۔ آپ کے بارہ میں بے بنیاد پروپیگنڈے کیے۔ آپ کی معاشیات کو تباہ کیا۔ آپ کو اپنے قبیلہ کی حمایت سے محروم کیا۔ آپ پر جارحانہ حملے کیے۔ آپ کو مجبور کر دیا کہ آپ اپنا وطن چھوڑ کر مدینہ چلے جائیں۔ قریش خوش تھے کہ انھوں نے یہ سب کر کے پیغمبرِ اسلام کا خاتمہ کر دیا ہے۔ انھوں نے آپ کے "مسئلہ" کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا ہے۔ عین اس وقت یہ کہا گیا کہ تمہارا یہ بے بنیاد خیال صرف اس لیے ہے کہ تمہاری آنکھیں صرف قریب کے حالات کو دیکھ رہی ہیں، دور کے احوال کی تمہیں خبر نہیں۔ عین اس وقت جب کہ قریشِ اسلام کا جغرافیائی دائرہ تنگ کر رہے تھے، اس کا نظریاتی دائرہ بڑھتا جا رہا تھا۔ ہر روز شرک کے حلقہ سے کچھ افراد نکل کر اسلام کے حلقہ میں داخل ہو رہے تھے۔ قرییش اسلام کے مادی جغرافیہ کو تنگ کر کے خوش ہو رہے تھے مگر اسلام کی تبلیغی طاقت خود قریش کے نظریاتی جغرافیہ کو تنگ کر رہی تھی۔ اور تجربہ نے ثابت کیا کہ پہلی طاقت کے مقابلہ میں دوسری طاقت زیادہ موثر ہے ۔ دعوت و تبلیغ سب سے بڑی طاقت ہے، بشرطیکہ اس کو صحیح طور پر استعمال کیا جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader