دعوت الی اللہ
Urdu book, p. 193
By Maulana Wahiduddin Khan
دعوت کے حدود قرآن میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ تم لوگوں کو نصیحت کرو ، کیوں کہ تم صرف نصیحت کرنے والے ہو ، تم لوگوں کے اوپر داروغہ نہیں ہو (الغاشیہ ٢٢ ) اسی طرح دوسرے مقام پر کہا گیا ہے کہ تم لوگوں کے اوپر جبر کرنے والے نہیں ہو ، پس تم قرآن کے ذریعہ اس شخص کو نصیحت کرو جو میرے ڈرانے سے ڈرے (ق ۴٥) حدیث میں ارشاد ہوا ہے : عن ابی موسی قال : کان رسول الله صلى الله علیه وسلم حضرت ابو موسی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وسلم اذا بعث احداً من اصحابه فی بعض جب اپنے اصحاب میں سے کسی کو کسی کام پر بھیجتے تو امره قال " بشروا ولا تنفروا ، ويسروا ولا فرماتے کہ خوش خبری دو اور متنفر نہ کرو ، آسانی تعسروا “ (متفق عليه) پیدا کرو اور لوگوں کو مشکل میں نہ ڈالو ۔ اس طرح کی آیتیں اور حدیثیں گویا دعوت کے عمل کی حد بندی کر رہی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ داعی کو ابلاغ کے دائرہ میں رہ کر کام کرنا ہے ، اس کو اجبار کے دائرہ میں داخل نہیں ہونا ہے۔ اس کو یہ حق ہے کہ وہ سمجھانے بجھانے کے تمام ذرائع کو استعمال کرے ۔ مگر اس کو یہ حق نہیں کہ وہ تخریبی طریقہ اختیار کر کے لوگوں کو مجبور کرنے لگے۔ مثال کے طور پر فیملی پلاننگ کو لیجیئے ۔ فیملی پلاننگ کا موجودہ نظریہ اسلامی تعلیمات کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا۔ یہاں ایک داعی کو یہ کرنا ہے کہ وہ دلائل کے ذریعہ اسلامی نقطۂ نظر کو ثابت کرے ۔ اور اس طرح اس کے بارے میں لوگوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کرے ۔ اس طریقہ کی ایک مثال راقم الحروف کی کتاب عظمت قرآن (صفحہ ٢٣ - ٢٦) میں دیکھی جاسکتی ہے۔ لیکن اگر کچھ لوگ " اینٹی فیملی پلاننگ مہم " چلائیں ۔ وہ فیملی پلاننگ کے پوسٹر پھاڑیں ، احب رول کو جلائیں اور دکانوں کو بند کرائیں ، تو اس قسم کی مہم درست نہ ہوگی ۔ کیوں کہ یہ دعوت نہیں ایچی ٹیشن ہے۔ یہ ابلاغ کی حد کو پار کر کے اجبار کی حد میں داخل ہونا ہے ، اور اس قسم کا تجاوز نہ داعی کے لیے جائز نہیں ۔ ایسا طریق کار لوگوں کو اسلام سے متنفر کرنے کا سبب بنتا ہے ، جب کہ ہمارا کام یہ ہے کہ ہم لوگوں کو اسلام کی طرف راغب کریں۔ اس قسم کی " اینٹی " مہم چلانا گویا دعوتی مواقع کو قتل کرنا ہے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ تخریب کاری ہے نہ کہ دعوت الی اللہ ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader