دعوت الی اللہ
Urdu book, p. 194
By Maulana Wahiduddin Khan
مزاج دعوت فرعون قدیم مصر کا نہایت سرکش اور متکبر بادشاہ تھا۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے حضرت موسیٰ کو پیغمبر بنا کر فرعون کے پاس بھیجا۔ اس وقت اللہ نے حضرت موسیٰ اور آپ کے شریک نبوت حضرت ہارون کو جو ہدایت کی وہ یہ تھی : اذھبا الى فرعون انه طغی۔ فقولا له قولا تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ۔ وہ حد سے نکل گیا لينا لعلہ یتذکر أو يخشیٰ (طہ ۴۴) ہے۔ پھر اس سے تم لوگ نرمی کے ساتھ بات کرنا۔ شاید وہ نصیحت قبول کرے یا ڈر جائے۔ یہ فرعون سرکشی کی آخری حد پر پہنچ گیا تھا۔ مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ وہ اصلاح قبول کرنے والا نہیں ہے۔ پھر بھی پیغمبر کو حکم ہوتا ہے کہ اس کے پاس جاؤ تو اس سے نرمی اور شفقت کے ساتھ بات کرنا۔ اس کی گمراہی اور سرکشی کی ہٹ پر سختی کا انداز اختیار کرنا۔ اس آیت کی تشریح میں مفسر ابن کثیر نے لکھا ہے: هذه الآية فيها عبرة عظيمة وہوان فرعون اس آیت میں بہت بڑا سبق ہے۔ وہ یہ کہ فرعون فی غاية العتو والاستكبار وموسیٰ صفوة حد درجہ سرکشی اور گھمنڈ میں مبتلا تھا اور موسیٰ انسانوں الله من خلقه ۔ اذذاک ومع هذا امر ان لا يخاطب میں سے اللہ کے چنے ہوئے تھے۔ پھر بھی اور اس کے باوجود فرعون الا بالملاطفة واللین حکم ہوا کہ فرعون کو مخاطب کریں تو صرف نرمی اور الطفت کے ساتھ مخاطب کریں۔ اس واقعہ سے دعوت کا مزاج معلوم ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوتی کلام کو لازمی طور پر نرم کلام ہونا چاہئے۔ مدعو کا ظلم اور سرکشی اپنی آخری حد پر پہنچ جائے، حتیٰ کہ یہ بھی واضح ہو کہ وہ ہدایت قبول کرنے والا نہیں، تب بھی داعی کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنے نرم انداز کو چھوڑ دے۔ داعی کو یک طرفہ طور پر نرمی اور شفقت پر قائم رہنا ہے۔ خواہ مدعو جو انداز بھی اختیار کرے۔ داعی بنا صبر کی زمین پر کھڑا ہوتا ہے۔ جو لوگ صبر کی زمین پر کھڑے ہونے کی طاقت نہیں رکھتے انھیں دعوت کا نام بھی نہیں لینا چاہئے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader