فتح مبین
Urdu book, p. 200
By Maulana Wahiduddin Khan
امن کی طاقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ۵۰۱ء میں عرب میں پیدا ہوئے اور ۶۳۲ء میں آپ کی وفات ہوئی۔ اس زمانہ میں انسان صرف تشدد کی زبان جانتا تھا۔ یہ مزاج ہزاروں سال سے دنیا میں چلا آرہا تھا۔ عرب میں یہ مثل مشہور تھی کہ قتل کا بہترین جواب قتل ہے ( القتل انفی للقتل ) اور لڑائی کا بہترین حل لڑائی کرنا ہے ( الحرب انفی للحرب ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بالکل برعکس پیغام دیا۔ آپ نے انسان کو بتایا کہ جنگ سب سے بڑی طاقت نہیں ، بلکہ امن سب سے بڑی طاقت ہے۔ آپ نے امن کی قوتوں سے انسان کو آگاہ کیا اور خود اس پر عمل کرکے دکھایا کہ امن کس طرح تمام مسائل کا بہترین حل ہے۔ امن کی طاقت کیا ہے ۔ آپ نے بتایا کہ امن کی طاقت یہ ہے کہ انسان کی فطرت کو جگایا جائے ۔ فطرت حق پسند ہے اور یہ فطرت ہر انسان کے اندر ہمیشہ موجود ہوتی ہے۔ اس لیے ہمیشہ یہ ممکن ہوتا ہے کہ فطرت کے راستہ سے انسان کو حق کے اعتراف کی طرف لایا جاسکے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو قرآن لے کر آئے اس میں بتایا گیا ہے کہ انسان کے اندر دو خصوصیتیں موجود ہوتی ہیں۔ ایک ، وہ جس کو قرآن میں نفس امارہ کہا گیا ہے۔ دوسرا ، وہ جس کے لیے قرآن میں نفس لوامہ کے الفاظ آئے ہیں۔ نفس امارہ کو آج کل کی زبان میں انانیت کہا جاسکتا ہے ۔ اور نفس لوامہ کو ضمیر ۔ یہ دونوں صلاحیتیں ہر آدمی کے اندر پیدائشی طور پر موجود ہوتی ہیں۔ آدمی اس پر قادر نہیں کہ وہ ان میں سے کسی صلاحیت کو اپنے اندر سے مٹادے۔ جو لوگ جنگ و قتل کا طریقہ اختیار کرتے ہیں، وہ آدمی کے نفس امارہ کو جگاتے ہیں۔ اس کے برعکس جو لوگ امن کی طاقت کو استعمال کرتے ہیں وہ آدمی کے نفس لوامہ کو بیدار کرتے ہیں ۔ جنگ کا طریقہ انسان کو ختم کرکے اپنا مسئلہ حل کرنا چاہتا ہے ۔ اور امن کا طریقہ یہ چاہتا ہے کہ انسان کو دوست بناکر یا اس کی اصلاح کرکے اپنا مسئلہ حل کرے۔ جنگ کا طریقہ صرف مسائل میں اضافہ کرتا ہے، جب کہ امن کا طریقہ مسئلہ کو حل بھی کرتا ہے اور اسی کے ساتھ انسانی سماج کو بے شمار نئے فائدوں سے معمور کردیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader