فتح مبین
Urdu book, p. 201
By Maulana Wahiduddin Khan
اعراض کا اصول موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ اس لیے یہاں ہر ایک کو آزادی حاصل ہے ۔ یہ آزادی خود مالک کائنات کی طرف سے دی گئی ہے ، اس لیے قیامت سے پہلے اس کا ختم ہونا آمن نہیں ۔ اسی آزادی کا یہ نتیجہ ہے کہ انسان پیغمبر کے اوپر پتھر مارتا ہے۔ وہ حق پرستوں کو ستاتا ہے اور دعوت حق کے مقابلہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے ۔ داعی اگر ایسا کرے کہ وہ مدعو کی طرف سے پیش آنے والی شکایتوں پر اس سے لڑا جائے تو دعوت کا کام کبھی نہیں ہو سکتا ۔ اس کے بعد دنیا میں جنگ وجدال کی تاریخیں تو بنیں گی۔ مگر اشاعت دین اور صالح سماجی نظام کی تاریخیں کبھی ظہور میں نہ آئیں گی ۔ قرآن وحدیث میں اس مسئلہ کا حل صبر و اعراض بتایا گیا ہے۔ یعنی مدعو کی طرف سے پیش آنے والی زیادتیوں کو یک طرفہ طور پر برداشت کرنا ، اور ان کو نظر انداز کرتے ہوئے مثبت انداز میں اپنا دعوتی عمل جاری رکھنا۔ تمام پیغمبروں نے ایسا ہی کیا ہے ، اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طریقہ پر کاربند رہتے ہوئے اپنے دعوتی مشن کو تکمیل تک پہونچایا ہے ۔ صبر و اعراض کوئی انفعالی طریقہ نہیں ، وہ ایک ایجابی اصول ہے ۔ داعی اپنے مدعو کے حق میں آخری حد تک خیر خواہ ہوتا ہے ۔ وہ مدعو کی زیادتیوں پر نہ صرف اعراض کرتا ہے بلکہ زیادتی کے باوجود اس کے دل سے مدعو کے حق میں دعائیں نکلتی ہیں ۔ صبر و اعراض کے اسی عمومی اصول کی ایک عملی صورت وہ بھی جس کو اسلام کی تاریخ میں " صلح حدیبیہ" کہا جاتا ہے ۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر اس اصول کو اس کی آخری اور انتہائی صورت میں اختیار کیا گیا ہے ۔ اس کا نتیجہ شاندار کامیابی کی صورت میں نکلا جس کو قرآن میں فتح مبین کہا گیا ہے ۔ " حدیبیہ اصول " کا مطلب یہ ہے کہ فریق ثانی سے بے فائدہ نزاع کو اوائڈ کر کے اپنے لیے کام کا موقع پیدا کرنا ۔ اپنی طاقتوں کو تخریب غیر میں ضائع کرنے کے بجائے تعمیر خویش میں لگانا۔ حال کے بجائے مستقبل کو سامنے رکھ کر اپنا منصوبہ بنانا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader