ربانی انسان
Urdu book, p. 20
By Maulana Wahiduddin Khan
ربانی انسان قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ کسی انسان کا یہ کام نہیں کہ اللہ اس کو کتاب اور حکمت اور نبوت دے اور وہ لوگوں سے کہے کہ تم اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ۔ بلکہ وہ تو کہے گا کہ تم ربانی بنو (كُونُوا رَبَّانِيِّينَ) آل عمران ۷۹ ۔ ربانی کا مطلب ہے رب والا ، اللہ والا ، خدا پرست ۔ یہ ایک مومن کی شخصیت کو بتانے کے لیے نہایت صحیح اور بامعنی لفظ ہے۔ پیغمبر کی دعوت ، ایک لفظ میں ، یہی ہوتی ہے کہ اے لوگو، تم اپنے آپ کو ربانی انسان بناؤ۔ جو لوگ پیغمبر کی دعوت کو قبول کرتے ہیں ان کی خاص صفت یہی ہے کہ وہ اللہ والے انسان بن جاتے ہیں۔ ایمان کے نتیجہ میں ان کے اندر جو شخصیت ابھرتی ہے وہ ربانی شخصیت ہوتی ہے ۔ ہر آدمی جو اس دنیا میں ہے ، اس کی زندگی کا کوئی نہ کوئی رخ ہوتا ہے۔ اس کا پورا وجود اسی رخ پر چلتا ہے۔ وہ سوچتا ہے تو اس کا ذہن اسی مخصوص رخ پر سوچتا ہے ۔ وہ عمل کرتا ہے تو اس کا عمل تمام کا تمام اسی مخصوص رخ کی طرف ہوتا ہے۔ وہ بولتا ہے تو اس کے منہ سے نکلا ہوا ہر لفظ اسی کا پہلو لیے ہوئے ہوتا ہے۔ ہر اعتبار سے اس کی توجہ اسی کی طرف لگ جاتی ہے ۔ مومن وہ ہے جس کی زندگی کا رخ پوری طرح خدا کی طرف ہو جائے ۔ اس کی سوچ خدا کی سمت میں چلے۔ اس کے جذبات خدا کے لیے متحرک ہوتے ہوں ۔ صرف ایک خدا اس کی تمام سرگرمیوں کا مرکز و محور بنا ہوا ہو۔ اس کا کلام خدا کے عظمت و جلال کے احساس کے تحت نکلا ہوا کلام ہو۔ خدا کی یاد اس کا سب سے بڑا سرمایہ بن جائے ۔ مومن انسان خدا پرست انسان ہوتا ہے۔ وہ کسی بھی قسم کی شرکت کے بغیر صرف ایک خدا کو اپنا سب کچھ بنالیتا ہے۔ وہ اسی خدا کی یادوں کے ساتھ جیتا ہے اور اسی خدا کی یادوں کے ساتھ اس دنیا سے چلا جاتا ہے ۔ اس زندگی کو ایک لفظ میں ، خدا رخی (God-oriented) زندگی کہہ سکتے ہیں ۔ ایسا انسان ہر طرف سے یکسو ہو کر خدا میں جڑ جاتا ہے ۔ وہ اپنی ہستی کے تمام تقاضوں کے لیے خدا کو اپنا مطلوب بنالیتا ہے۔ وہ ہر اعتبار سے ربانی انسان بن جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader