ربانی انسان
Urdu book, p. 21
By Maulana Wahiduddin Khan
صاحب معرفت ایک روایت کے مطابق ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حیا اور کلام سے عاجز ہونا ایمان میں سے ہے ۔ ( الحیاء والعی من الایمان ) بعض صوفیار کا قول ہے کہ جس شخص کو اللہ کی پہچان ہو جائے ، اس کی زبان گویائی سے تھک جائے گی ( من عرف الله کل لسانه ) جس طرح خالی برتن زیادہ آواز دیتا ہے ، اور جو برتن بھرا ہوا ہو اس میں آواز کم ہو جاتی ہے ۔ کم پانی میں پتھر پھینکیں تو بہت زیادہ موج ہو گا ۔ مگر سمندر میں پتھر پھینکے تو اس میں اس کی وجہ سے کوئی سموج نہیں ہوتا ۔ یہی معاملہ انسان کا ہے ۔ خالی انسان زیادہ بولتا ہے اور بھرا ہوا انسان ہمیشہ کم بولتا ہے ۔ اللہ کی معرفت سب سے بڑی حقیقت کی معرفت ہے ۔ آدمی جب اللہ کو اس کی اتھاہ عظمتوں اور اس کے بے پایاں کمالات کے ساتھ پاتا ہے تو اپنا وجود اس کو بالکل حقیر معلوم ہونے لگتا ہے ۔ اس کو محسوس ہوتا ہے کہ اللہ سب کچھ ہے ، اور اس کے مقابلہ میں میں کچھ نہیں ہوں ۔ یہ احساس فروتنی اس کی زبان کو بند کر دیتا ہے ۔ وہ حیرانی کی کیفیت میں گم ہو کر رہ جاتا ہے ۔ مزید یہ کہ اللہ کی معرفت آدمی کے اندر ذمہ داری اور جواب دہی کے شعور کو جگاتی ہے ۔ وہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ ہر ہر کام اور ہر ہر بول کا مجھے قادر مطلق کے سامنے حساب دینا ہے ۔ یہ احساس اس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ ناپ تول کر بولے ۔ وہ کہنے سے پہلے سوچے اور اظہار سے پہلے احتساب کرے ۔ خدا کی معرفت آدمی کے اندر سنجیدگی پیدا کرتی ہے ، اور سنجیدگی ، عین اپنے مزاج کے مطابق ، آدمی کو خاموش کر دیتی ہے ۔ خاموشی کوئی سلبی کیفیت نہیں ، وہ عین ایجابی عمل ہے ۔ خاموش آدمی یہ بتا رہا ہوتا ہے کہ وہ گہرا آدمی ہے ۔ وہ بلند تر حقیقتوں کو پانے ہوتے ہیں ۔ خاموشی اس بات کی علامت ہے کہ آدمی بولنے سے پہلے سوچتا ہے ۔ وہ کرنے سے پہلے اپنے کرنے کو تولتا ہے ۔ خاموشی فرشتوں کے ساتھ مشابہت ہے ۔ کیوں کہ فرشتے خاموش زبان میں بولتے ہیں ۔ جس آدمی کو فرشتوں کی ہم نشینی حاصل ہو جائے ، وہ خاموش زیادہ دکھائی دے گا اور بولتا ہو ا کم ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader