Urdu book · الربَّانِيَّةُ

فتح مبین

Urdu book, p. 210

By Maulana Wahiduddin Khan

عزیمت خلیفہ چہارم حضرت علی رضی اللہ عنہ پر ابن ملجم نے قاتلانہ حملہ کیا۔ اسی میں آپ کی وفات ہوئی۔ آپ نے اپنے بعد کسی کو خلافت کے لیے نامزد نہیں کیا۔ آپ کے بعد لوگوں نے آپ کے صاحبزادہ حضرت حسن کے ہاتھ پر بیعت کی۔ مگر اس وقت امت دو طبقوں میں بٹی ہوئی تھی۔ ایک حصہ حضرت حسن کے ساتھ تھا، اور دوسرا حصہ حضرت معاویہ کے ساتھ۔ دونوں طبقوں میں اختلافات اتنے بڑھے کہ جنگ کی صورت پیدا ہوگئی۔ حضرت حسن نے مسلمانوں کی باہمی لڑائی کو پسند نہیں کیا۔ وہ یک طرفہ طور پر عہدہ سے دستبردار ہوگئے اور خلافت کا عہدہ حضرت معاویہ کے حوالے کر دیا۔ اس وقت حضرت حسن کے جھنڈے کے نیچے چالیس ہزار جنگ جو جمع تھے۔ وہ لوگ آپ پر برہم ہوگئے۔ ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا : یا مسود وجوہ المسلمین (اے مسلمانوں کا چہرہ سیاہ کرنے والے) ایک اور شخص نے کہا: یا مذل المومنین (اے مسلمانوں کو ذلیل کرنے والے) البدایہ والنہایہ، ۱۹۰/۸۔ خلافت سے دستبرداری سے پہلے حضرت حسن لوگوں کے درمیان ہیرو بنے ہوئے تھے۔ مگر جب انہوں نے مسلمانوں کو قتل وخون سے بچانے کے لیے حکومت سے علیحدگی اختیار کر لی تو وہ انھیں لوگوں کے درمیان ایک مبغوض فرد بن گئے۔ ایک شخص نے آپ کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یا عار المومنین (اے مسلمانوں کے لیے ننگ و عار) حضرت حسن نے اس کے جواب میں کہا : العار خیر من النار (عار آگ سے بہتر ہے) یہ قوموں اور جماعتوں کی عام کمزوری ہے کہ جو مسئلہ ان کے لیے وقار کا مسئلہ بن جائے، جس میں پیچھے ہٹنے میں ننگ و عاریا بے عزتی دکھائی دیتی ہو۔ ایسے معاملہ میں قومیں یا جماعتیں جھکنے کے لیے تیار نہیں ہوتیں۔ خواہ لوگوں کی جان و مال ضائع ہو، خواہ اس کی وجہ سے تمام دینی مصالح برباد ہو رہے ہوں۔ مگر کسی معاملہ میں اس طرح جمنا عزیمت نہیں ، وہ بد ترین گمراہی ہے۔ وہ جنت کا نہیں بلکہ جہنم کا راستہ ہے۔ سب سے زیادہ با عزم انسان وہ ہے جو دین کا جھنڈا بلند رکھنے کے لیے اپنے جھنڈے کو جھک لے۔ جو اپنی ملی ہوئی سیٹ کو دوسرے کے لیے خالی کر دے۔ عزیمت ہمیشہ کسی مقصد کے لیے ہوتی ہے نہ کہ بے مقصد طور پر ایک حالت پر جھے رہنے کے لیے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page