Urdu book · الربَّانِيَّةُ

مسائلِ ملت

Urdu book, p. 217

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک سُنّت مکہ کی فتح (۸ ھ) کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے طائف کا سفر کیا۔ اس سفر کے دوران جو واقعات پیش آئے ، ان میں سے ایک واقعہ وہ ہے جو ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے: ثم سلك في طريق يققال لها الضيقة ـ فلما پھر آپ اس راستہ میں چلے جس کو ضیقہ (تنگ) توجه فيها رسول الله صلى الله عليه وسلم کہا جاتا تھا ۔ جب آپ نے اس کا رخ کیا تو آپ سأل عن اسمها ـ فقال : ما اسم هذه الطريق . نے اس کا نام پوچھا اور کہا کہ اس راستہ کا نام فقيل له الضيقة ـ فقال بل هي اليسرى ـ کیا ہے۔ آپ کو بتایا گیا کہ ضیقہ (تنگ) (سيرة ابن هشام ، الجزئر الرابع ، صفحه ۱۲) نے فرمایا کہ نہیں ، بلکہ وہ یسری (آسان) ہے۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلیم و تربیت کا طریقہ کیا تھا۔ وہ آدمی کے طرزِ فکر کو بدلنا تھا۔ لوگ جس چیز کو ’’مشکل‘‘ کے روپ میں دیکھ رہے ہوں، اس کے متعلق ایسی نظر پیدا کرنا کہ وہ اس کو ’’آسانی‘‘ کے روپ میں دیکھنے لگیں۔ آج ضرورت ہے کہ پیغمبر کی اس سنت کو زندہ کیا جائے ۔ لوگوں کے سوچنے کے طریقہ کو بدلنا اور ان کے ذہن کو درست کرنا یہی آج کرنے کا سب سے بڑا کام ہے ۔ اسی کام کے کرنے پر ملتِ مسلمہ کے مستقبل کا انحصارہے۔ موجودہ مسلمانوں نے اپنے پیغمبر کو قومی ہیرو کی حیثیت دے رکھی ہے۔ اس کے بجائے ان کے اندر یہ ذہن بنانا کہ پیغمبر ایک قابلِ تقلید اسوہ ہے۔ آج مسلمان اپنی تاریخ سے فخر کی غذا لے رہے ہیں ۔ اس کے بجائے انھیں تاریخ سے سبق لینے والا بنانا ۔ مسلمان اپنے مسائل کو ظلم کی نظر سے دیکھ رہے ہیں ، اس کے بجائے ان کو اس مقابل بنانا کہ وہ انھیں چیلنج کی نظر سے دیکھیں ۔ مسلمان دوسری قوموں کو اپنا حریف اور رقیب سمجھے ہوتے ہیں ، اس کے بجائے ان کے اندر یہ نگاہ پیدا کرنا کہ وہ دوسری قوموں کو مدعو کی حیثیت دیں اور ان کے ساتھ داعیانہ اخلاق والاعاملہ کریں۔ خلاصہ یہ کہ مسلمانوں کے اندر ایسا فکری انقلاب لانا کہ وہ موجودہ قومی نگاہ کو چھوڑ دیں اور چیزوں کو ربانی نگاہ سے دیکھنے لگیں ۔ آج سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ اس چھوٹی ہوئی سُنّت کو مسلمانوں میں دوبارہ زندہ کیا جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page