مسائلِ ملت
Urdu book, p. 218
By Maulana Wahiduddin Khan
ازالۂ سبب ایک حکیم صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ وہ ایک تجربہ کار حکیم ہیں اور اپنے فن پر کامل عبور رکھتے ہیں۔ انھوں نے ایلوپیتھی اور طب یونانی کا تقابل کرتے ہوئے کہا کہ دونوں کے طریق علاج میں ایک بنیادی فرق ہے ۔ ایلوپیتھی کا انحصار ازالۂ تکلیف پر ہے اور طب یونانی کا انحصار ازالۂ سبب پر۔ مثلاً ایک مریض آتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے سر میں درد ہے ۔ اب ایلوپیتھی کا معالج اس کو اسپرین کی گولی دیدے گا جس کے استعمال سے درد بظاہر دب جائے گا ۔ مگر یہ وقتی ہوگا ۔ اس کی گولیاں وقتی طور پر ازالۂ تکلیف کر سکتی ہیں ، مگر وہ درد کو مستقل طور پر ختم نہیں کرتے ہیں ۔ اس کے برعکس طب یونانی کے معالج کے سامنے یہی مریض آئے تو وہ درد سر کا سبب تلاش کرے گا ۔ اگر وہ پائے گا کہ درد کا سبب پیٹ کی خرابی ہے تو وہ پیٹ کا علاج کرے گا نہ کہ براہ راست درد سر کا ۔ مذکورہ حکیم صاحب نے ایلوپیتھی کے طریقہ پر سخت تنقید کی اور طب یونانی کے طریقہ کو صحیح اور فطری طریقہ قرار دیا ۔ ” کیوں کہ ازالۂ تکلیف کا طریقہ صرف وقتی ریلیف دیتا ہے ، وہ مستقل شفا عطا نہیں کرتا “۔ اس کے بعد الرسالہ کا ذکر آیا تو حکیم صاحب نے اس کے ” تعمیری پیغام “ سے اتفاق نہیں کیا ۔ انھوں نے کہا کہ مسلمان آج سنگین قسم کے مسائل میں مبتلا ہیں ۔ وہ فوری توجہ کے مستحق ہیں ۔ مگر آپ کے پاس مسلمانوں کے مسئلہ کا کوئی فوری حل نہیں ۔ آپ صبر اور اعراض کی اور ایک طرفہ طور پر شکایات کو ختم کرنے کی باتیں کرتے ہیں ۔ موجودہ حالت میں تو یہ بات محض ایک فلسفہ ہے وہ مسئلہ کا حل نہیں ۔ میں نے حکیم صاحب سے کہا کہ آپ شخصی بیماری کے لیے ازالۂ سبب کے طریقہ کو مفید بتاتے ہیں ، اور اجتماعی بیماری کے لیے ازالۂ تکلیف کے طریقہ کی وکالت کر رہے ہیں ۔ اس کے برعکس ہم شخصی اور اجتماعی دونوں قسم کے مسائل میں ازالۂ سبب کے طریقہ کو نتیجہ خیز سمجھتے ہیں ۔ بس اس کے سوا ہمارے اور آپ کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ۔ آپ دہرا انداز فکر کو ختم کر دیں اور پھر ہمارے اور آپ کے درمیان کوئی فرق نہ ہوگا ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader