Urdu book · الربَّانِيَّةُ

ربانی انسان

Urdu book, p. 27

By Maulana Wahiduddin Khan

دو قسم کے لوگ جسم کے اوپر کیچڑ لگ جائے تو اس کو پانی سے دھویا جا سکتا ہے ۔ لیکن اگر جسم کے اندر کوئی داخلی خرابی پیدا ہو جائے تو اس کو دھو کر صاف کرنا ممکن نہیں ۔ یہی معاملہ دین کا بھی ہے ۔ اگر آدمی اوپری طور پر کسی دینی خرابی میں مبتلا ہو تو اس کے متعلق امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے درگزر فرمائے گا ۔ مگر جن کے گناہوں نے جسم سے لے کر روح تک ان کا احاطہ کر لیا ہو ، ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے یہاں معافی نہیں ۔ ایک برائی وہ ہے کہ جب آدمی اس کو کرے تو اس کا دل اس کا ساتھ نہ دے ۔ اس کو یہ احساس ستا رہا ہے کہ وہ گناہ کر رہا ہے ۔ اپنے اس فعل کی بنا پر اس کو خود اپنے آپ سے نفرت ہو جائے ۔ وہ شرمندہ ہو کر معافی چاہے اور شیطان سے پناہ مانگتا ہوا اللہ کی طرف دوڑ پڑے ۔ ایسے آدمی کی اندرونی حالت اس بات کا ثبوت ہوتی ہے کہ اس کا گناہ اوپری گناہ تھا۔ وہ اس کی روح کا گناہ نہ تھا ۔ اس کی برائی کی مثال ایسی ہے جیسے کسی کے جسم کا اندرونی نظام تو صحت مند تھا ۔ البتہ اس کے جسم کے اوپر کسی وجہ سے گندگی لگ گئی ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے تزکیہ کا وعدہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کو پاک فرمائے گا ۔ اور آخرت میں ان کو اس قابل بنا دے گا کہ وہ جنت کی پاکیزہ دنیا میں آباد ہو سکیں ۔ دوسرے لوگ وہ ہیں جن کی برائی ان کے اندر تک داخل ہو گئی ہو ۔ ان کے اعضا ء جو کچھ کریں وہ ان کے دل و دماغ کا سوچا سمجھا منصوبہ ہو ۔ ان کا فعل محض وقتی جذبے کے تحت صادر نہ ہوا ہو بلکہ اس کے پیچھے حسد ، بغض ، تکبر ، انتقام ، اور سرکشی جیسے اندرونی جذبات کام کر رہے ہوں ۔ ان کے ظاہری عمل میں ان کے اندرونی احساسات پوری طرح شریک ہوں ۔ ایسے لوگوں کی خرابی اوپری خرابی نہیں ، وہ ان کی شخصیت میں آخری گہرائی تک اتری ہوئی ہے ۔ اس قسم کے لوگ تزکیہ خداوندی سے محروم رہیں گے ، وہ آخرت میں جہنم کے مستحق قرار پائیں گے ۔ پہلی قسم کے لوگ دنیا ہی میں اپنا حساب آپ کر رہے ہوتے ہیں ۔ ایسے لوگ آخرت کے حساب سے بچ جائیں گے ۔ دوسری قسم کے لوگ دنیا میں اپنے حساب سے غافل ہوتے ہیں ۔ یہی لوگ ہیں جو آخرت میں پکڑے جائیں گے ۔ اور جو شخص آخرت میں پکڑا جائے اس کے لیے نجات کی کوئی صورت نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page