ربانی انسان
Urdu book, p. 28
By Maulana Wahiduddin Khan
شیطان کا حملہ ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پچھلے پیغمبروں میں سے ایک پیغمبر سے شیطان کا مکالمہ ہوا۔ یہ ایک لمبی روایت ہے ، اس کا ایک حصہ حسب ذیل ہے : قَالَ النَّبِيُّ وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَحْسَسْتُ بِكَ قَطُّ (شیطان نے کہا کہ تم کس طرح مجھ سے نجات إِلَّا استعذتُ بالله منك - قال عدوُّ الله پاؤ گے) پیغمبر نے کہا کہ خدا کی قسم جب بھی میں نے صَدقتَ بهذا تنجو مِنِّي فَقَالَ النَّبِيُّ أَخْبِرْنِي تیری طرف سے کچھ محسوس کیا تو میں نے تجھ سے بأيِّ شَيْءٍ تغلب ابن آدم قال آخذه اللہ کی پناہ مانگی۔ دشمن خدا نے کہا کہ تم نے سچ عند الغضب والهوى . کہا۔ اسی کے ذریعہ تم مجھ سے نجات پا سکتے ہو۔ (تفسیر ابن کثیر، الجزء الثانی، صفحہ ۵۵۱) پھر پیغمبر نے کہا کہ مجھے بتاؤ کہ تم کس چیز کے ذریعہ دوبارہ انسان کے اوپر غلبہ حاصل کرو گے ۔ شیطان نے کہا کہ غصہ اور خواہش کے وقت۔ اس سے معلوم ہوا کہ آدمی جب غصہ میں ہوتا ہے یا جس وقت اس پر کسی خواہش کا غلبہ ہوتا ہے تو وہ شیطان کے لیے غیر محفوظ (Vulnerable) بن جاتا ہے ۔ ایسا ہر موقع آدمی کے اندر ایک ایسی کمزوری پیدا کر دیتا ہے جہاں سے شیطان آدمی کے اندر داخل ہو جائے اور اس کو اپنا شکار بنالے ، وہ اس کو جنت کے رُخ سے ہٹا کر جہنم کے رخ پر چلانے لگے ۔ آدمی کو سب سے زیادہ جس چیز سے ڈرنا چاہیے وہ خود اس کا اپنا غصہ اور اس کی خواہش پرستی ہے ۔ اس خطرہ سے بچنے کی تدبیر یہ ہے کہ جب بھی آدمی اپنے اندر اس قسم کے احساسات پائے وہ اس کو شیطان کا حملہ سمجھے اور فوراً شیطان کے مقابلہ میں اللہ کی پناہ مانگنے لگے ۔ جب آدمی کے اندر غصہ بھڑکتا ہے تو وہ شیطان کے زیر اثر آجاتا ہے ۔ جب اس پر کوئی خواہش غالب آتی ہے تو اندیشہ ہوتا ہے کہ شیطان اس کو اپنے قابو میں کر لے گا ۔ ایسے ہر موقع پر گناہ اور بے انصافی سے بچنے کی واحد کارگر تدبیر یہ ہے کہ آدمی اللہ کی مدد مانگے ، وہ شیطان کے مقابلہ میں اللہ کی پناہ میں آجائے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader