ربانی انسان
Urdu book, p. 29
By Maulana Wahiduddin Khan
جنت کا دروازہ امام ابن تیمیہ کا قول ہے: دنیا میں بھی ایک جنت ہے، جو شخص دنیا کی جنت کا ذائقہ نہیں چکھے گا وہ آخرت کی جنت میں نہیں جا سکتا (لأن في الدنيا جنة من لم يدخلها لم يدخل جنة الآخرة) دنیا کی جنت یہ ہے کہ وہ اعمال جو آدمی کو آخرت کی جنت میں لے جانے والے ہیں وہ اس کے لئے محبوب بن جائیں۔ جنت میں داخلہ جس طرح آدمی کے لئے انتہائی پسندیدہ ہو گا اسی طرح جنت والے اعمال میں اس کو لذت اور اطمینان حاصل ہونے لگے۔ دنیا کی جنت یہ ہے کہ آدمی دنیا کے دکھائی دینے والے سہماروں سے زیادہ خدا کے نہ دکھائی دینے والے سہارے پر بھروسہ کرنے لگے۔ دنیا کی محبتوں سے زیادہ خدا کی محبت اس کو عزیز ہو اور دنیا کے خوف سے زیادہ خدا کا خوف اس کے لئے اہمیت رکھتا ہو۔ رسول کے بتائے ہوئے طریقے کو قبول کرنا اس کو ہر حال میں پسند ہو خواہ وہ اس کے خلاف کیوں نہ جاتا ہو۔ وہ دنیا کی مصلحتوں کے بجائے آخرت کی مصلحتوں کو اہمیت دے۔ حق کو نظر انداز کرنے کے مقابلہ میں حتیٰ کو مان لینا اس کی نظر میں زیادہ محبوب بن جائے ۔ بے فکری کے ساتھ قہقہہ لگانے سے بڑھ کر تسکین اس کے دل کو اس وقت ملتی ہو جب کہ وہ اللہ کے لئے آنسو بہا رہا ہو۔ وقار کا سوال اگر سچی بات کو قبول کرنے میں مانع ہو تو اپنے وقار کو مے رو ح کر کے وہ سچائی کا طریقہ اختیار کرنے پر راضی ہو جائے۔ جب اس کو کسی سے شکایت ہو تو انتقام لینے کے بجائے اس کو معاف کر دینے میں اس کا دل ٹھنڈک پاتا ہو۔ حقوق کو غصب کرنے سے زیادہ اس کو یہ بات پسند ہو کہ وہ دوسروں کے حقوق ادا کرے۔ جب اس کے سینہ میں حسد اور بغض اور گھمنڈ کے جذبات بھڑکیں تو ان کو ظاہر کرنے کے بجائے ان کو کچل ڈالنا اس کو زیادہ مرغوب ہو۔ کسی کے خلاف بری رائے قائم کرنے سے زیادہ اس کو یہ بات پسند ہو کہ وہ اس کے بارے میں اچھی رائے قائم کرے ۔ جنت میں جینا یہ ہے کہ آدمی جنتی اعمال میں جی رہا ہو۔ وہ صبر و شکر کا طریقہ اپنائے ہوئے ہو ۔ اس کو عجز و تواضع میں لذت ملتی ہو۔ وہ نمائش کاموں کے بجائے خاموش کاموں میں رغبت رکھتا ہو۔ وہ اپنی آنکھ اور اپنی زبان پر خدا کی نگرانی قائم کئے ہوئے ہو۔ جس آدمی کا حال یہ ہو کہ وہ جنتی اعمال میں اپنے لئے کشش پاتا ہو وہ گویا جنت کی فضاؤں میں جی رہا ہے۔ اور جس آدمی کا حال یہ ہو کہ اس کے برعکس اعمال اس کی دلچسپی کا باعث بنے ہوئے ہوں وہ گویا جہنم میں اپنے صبح و شام بسر کر رہا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader