ربانی انسان
Urdu book, p. 32
By Maulana Wahiduddin Khan
ایمان بالغیب قرآن کتاب ہدایت ہے۔ مگر قرآن سے ہدایت صرف ان لوگوں کو ملتی ہے جو غیب کے اور پر ایمان لانے کے لیے تیار ہوں (ذٰلِکَ الکِتابُ لارِیبَ فِیہِ ھُدیً لِّلمُتَّقِینَ الذِینَ یُومِنُونَ بالغیب، البقرہ) اللہ تعالی نے دو دنیائیں بنائیں۔ ایک دنیاۓ شہود، اور دوسری دنیاۓ غیب۔ آخرت کی دنیا شہود کی دنیا ہے۔ وہاں تمام چیزیں ظہور کی حالت میں ہیں۔ وہاں تمام حقیقتیں اپنی برہنہ صورت میں نظر آتی ہیں، آخرت میں ہر آدمی سچائی کو ماننے پر مجبور ہوگا، وہاں کسی کے لیے منکر بننا ممکن نہیں۔ مگر موجودہ دنیا کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ یہاں تمام حقیقتیں غیب کی حالت میں رکھی گئی ہیں۔ یہی آدمی کا امتحان ہے۔ موجودہ دنیا میں آدمی کو ان حقیقتوں کو عقل کی آنکھ سے دیکھنا ہے جن کو وہ آخرت میں سر کی آنکھ سے دیکھے گا۔ آخرت کی مشہود نعمتیں انھیں لوگوں کے لیے ہیں جنھوں نے موجودہ غیب کی دنیا میں ان پر یقین لانے کا ثبوت دیا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کا سارا امتحان اسی بات کا ہے کہ کون حالت غیب میں مومن بنتا ہے اور کون حالت شہود میں۔ جو لوگ اس وقت ایمان لائیں جب کہ حقائق ظاہر ہو چکے ہوں گے، ان کے ایمان کی کوئی قیمت نہیں۔ اللہ کے نزدیک مومن صرف وہ ہے جس نے غیب کا پردہ اٹھنے سے پہلے غیب کی باتوں کو مان لیا ہو جس نے سچائی کو اس کے مجرد روپ میں دیکھ لیا ہو۔ جو شخص خدا کی نعمتوں میں اپنا حصہ پانا چاہتا ہے، اس کو خدا پر اس وقت یقین کرنا ہے جب کہ ابھی وہ غیب میں ہے۔ اس کو اس آخرت کے لیے جینا ہے جس کو اس نے دیکھا نہیں۔ اس کو خدا کی ان نعمتوں کا اعتراف کرنا ہے جس میں اس کو حصہ نہیں دیا گیا۔ اس کو ان ذمہ داریوں کو ادا کرنا ہے جس کا فائدہ موجودہ زندگی میں نہیں ملتا۔ اس کو ان داعیان حق کا ساتھ دینا ہے جن کے داعی حق ہونے کی گواہی دینے کے لیے ابھی فرشتے ظاہر نہیں ہوئے۔ اس کو ایک ایسی چیز کو اپنی منزل بنا کر سفر کرنا ہے جو موجودہ دنیا میں کبھی حاصل نہیں ہوتی۔ غیر مومن دکھائی دینے والی دنیا میں جیتا ہے اور مومن نہ دکھائی دینے والی دنیا میں۔ یہ مشرق دونوں کی زندگیوں میں اتنا فرق پیدا کر دیتا ہے کہ ایک کا انجام دوزخ بن جاتا ہے اور دوسرے کا انجام جنت۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader