ربانی انسان
Urdu book, p. 33
By Maulana Wahiduddin Khan
عبادت الہی قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ اے لوگو، اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تم کو پیدا کیا اور ان لوگوں کو بھی جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں تاکہ تم دوزخ کے عذاب سے بچ جاؤ ( البقرہ (۲۱) دوسری جگہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ میں نے جنات اور انسان کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں ( الذاریات ۵۶) عبادت کا مطلب انتہائی خضوع اور عاجزی ہے۔ اس سے مراد وہ کیفیت ہے جو ایک انتہائی طاقتور کے مقابلہ میں انتہائی عاجز کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ خدا ہر قسم کی طاقتوں کا خزانہ ہے۔ اسی نے انسان کو وجود بخشا ہے۔ جو کچھ انسان کو حاصل ہے وہ سب کا سب خدا کا عطیہ ہے۔ خدا اول سے آخر تک انسان کے اوپر کامل اختیار رکھتا ہے۔ ایسے خدا پر یقین سے آدمی کے اندر جو کیفیت ابھرتی ہے، اسی کا نام عبادت ہے۔ عبادت کی یہ کیفیت ابتداً آدمی کے دل و دماغ میں پیدا ہوتی ہے۔ وہ اس کی روح کو ہلا دیتی ہے۔ اور جب انسان کی اندرونی ہستی کا یہ حال ہوتا ہے تو اس کا خارجی وجود بھی اس کی اسی اندرونی کیفیت میں ڈھل جاتا ہے۔ آدمی ہمتن اپنے آپ کو خدا کے آگے ڈال دیتا ہے۔ اسی ڈال دینے کی ایک متعین صورت کا نام نماز ہے۔ جب آدمی کا دل عبادت کے احساس سے سرشار ہوتا ہے اور اس کا جسم عبادت گزار جسم بن جاتا ہے تو اس کے لازمی نتیجہ کے طور پر اس کی روزمرہ کی زندگی میں عبادت گزاری کی روح پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کا یہ جذبہ اسے مجبور کرتا ہے کہ لوگوں کے ساتھ جب اس کے تعلقات پیش آئیں، اور لوگوں سے جب اس کا لین دین ہو تو ان معاملات میں بھی وہ عبادت گزارانہ روش پر قائم رہے۔ لوگوں کے ساتھ اس کا سلوک بندۂ عاجز کا سلوک ہو نہ کہ بندۂ سرکش کا سلوک ۔ ایک شخص جب خدا کی خدائی کا اعتراف کرکے اپنی پوری ہستی کے ساتھ خدا کا بندہ بن جائے تو اس کی ساری زندگی میں عبادت گزاری کی روح شامل ہو جاتی ہے۔ اس کا سوچنا، اس کا بولنا، اس کا چلنا، غرض اس کی ہر کارروائی عابدانہ رنگ میں رنگ جاتی ہے۔ مسجد کے اندر اس کا کردار رکوع اور سجدہ کا کردار ہوتا ہے اور مسجد کے باہر اس کا کردار تواضع اور اعتراف کا کردار ۔ ایک اعتبار سے وہ عبادت گزار انسان ہوتا ہے اور دوسرے اعتبار سے ذمہ دار انسان۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader