Urdu book · الربَّانِيَّةُ

ربانی انسان

Urdu book, p. 42

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک کردار وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا اور ان کو اس شخص کا حال سناؤ جس کو ہم نے اپنی فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَأَتْبَعَهُ الشَّيْطَانُ فَكَانَ مِنَ نشانیاں دیں تو وہ ان کو چھوڑ کر نکل بھاگا۔ پھر الْغَاوِينَ ۔ وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَاهُ بِهَا وَلَكِنَّهُ شیطان اس کے پیچھے لگ گیا تو وہ گمراہوں میں أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوَاهُ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ سے ہوگیا۔ اور اگر ہم چاہتے تو ہم ان نشانیوں الْكَلْبِ إِنْ تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ أَوْ تَتْرُكْهُ کی بدولت اس کا رتبہ بلند کر دیتے ۔ مگر وہ زمین کا يَلْهَثْ ذَلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِينَ كَذَّبُوا ہو رہا اور اس نے اپنی خواہش کی پیروی کی۔ تو بِآيَاتِنَا فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ اس کا حال ایسا ہے جیسے کتا، تم اس پر بوجھ لادو ( الاعراف ۱۷۵ - ۱۷۷ ) تب بھی ہانپنے اور چھوڑ دو تب بھی ہانپے۔ یہ مثال ان لوگوں کی ہے جنھوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا۔ پس تم ان احوال کو بیان کرو شاید کہ وہ غور کریں۔ اللہ تعالیٰ ایک شخص کے لیے ایسے حالات برپا کرتا ہے کہ وہ حق کا اعتراف کرے اور پھر اعتراف حق کا انعام پائے مگر اس کی خودی اس کے لیے اعتراف کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ایک شخص کے سامنے ایسے مواقع کھولتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس میں استعمال کرے اور خدا کے دین کا خادم بنے مگر وہ اپنی سطحی خواہشات سے ایسا مغلوب ہوتا ہے کہ ان مواقع کو استعمال نہیں کر پاتا۔ اللہ تعالیٰ ایک شخص کے سامنے ایسے دروازے کھولتا ہے کہ وہ اس میں داخل ہو کر اپنی اصلاح کرے اور نیک اعمال کر کے خدا کی رحمت و مغفرت کا مستحق بنے ، مگر اپنے جھوٹے تقاضوں کی اہمیت اس کے ذہن پر اس طرح چھاتی ہے کہ وہ اس دروازہ میں داخل نہیں ہوتا یا داخل ہوتا ہے تو اپنی نفسیاتی بیماریوں کی وجہ سے جلدی اس سے نکل بھاگتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی عقل پر ان کی خواہشات نے غلبہ پا لیا ۔ وہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہو گئے ۔ وہ دروازہ کھولے جانے سے پہلے بھی محروم تھے اور دروازہ کھولے جانے کے بعد بھی وہ محروم رہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page