Urdu book · الربَّانِيَّةُ

ربانی انسان

Urdu book, p. 41

By Maulana Wahiduddin Khan

ذکر و دعا اسلامی عمل بظاہر بہت سی چیزوں کا نام ہے۔ کوئی عمل عبادت سے تعلق رکھتا ہے اور کوئی اخلاق سے۔ کسی کا تعلق معاملات سے ہے اور کسی کا تعلق جہاد اور مقابلہ سے۔ مگر اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے اسلامی عمل صرف ایک ہے، اور وہ ذکر و دعا ہے۔ قرآن وحدیث میں جن اعمال کا حکم دیا گیا ہے، ان کا مقصود یہ ہے کہ ان اعمال کے ذریعہ آدمی کے اندر وہ نفسیاتی استعداد پیدا ہوجب کہ اس کے اندر ذکر و دعا کی کیفیت ابھرنے لگے جو اصلًا اللہ کو مطلوب ہے۔ آدمی جب نماز ادا کرتا ہے تو گویا وہ اپنے اندر اس نفسیاتی حالت کو پیدا کرتا ہے کہ وہ کہہ سکے کہ خدایا، میرے پاس عجز تھا، میں نے تجھ کو اپنا عجز پیش کر دیا۔ تیرے پاس قدرت ہے، تو اپنی قدرت سے مجھے وہ چیز دے دے جس کا میں محتاج ہوں۔ جب آدمی زکوٰۃ دیتا ہے تو وہ اپنے اندر یہ نفسیاتی حالت پیدا کرتا ہے کہ وہ کہہ سکے کہ خدایا، میرے پاس جو اثاثہ تھا وہ میں نے تیری راہ میں دے دیا، اب تیرے پاس جو خزانہ ہے اس میں تو مجھے حصہ دار بنا دے۔ اسی طرح آدمی جب روزہ رکھتا ہے تو گویا وہ اپنے آپ کو یہ کہنے کے قابل بناتا ہے کہ خدایا، میں تیرے لیے بھوکا رہا، اب تو مجھ کو اپنے اتھاہ رزق سے سیراب کر دے۔ آدمی جب حج کے لیے سفر کرتا ہے تو وہ اپنی زندگی میں وہ حالات پیدا کرتا ہے جو اس کی زبان سے ان الفاظ کی صورت میں ظاہر ہوں کہ خدایا، میں تیری طرف چلا، مگر میں اپنے کمزور قدموں سے تیرے پاس پہنچ نہیں سکتا۔ تو اپنا ہاتھ بڑھا کر مجھ کو اٹھا لے۔ یہی معاملہ تمام اسلامی اعمال کا ہے۔ حتی کہ آدمی جب کسی سے شکایت پیدا ہونے کے باوجود اس کو معاف کر دیتا ہے تو وہ اپنے اندر یہ کہنے کی زمین پیدا کرتا ہے کہ خدایا، میں نے تیرے بندوں سے درگزر کیا، تو بھی مجھ کو معاف کر دے اور میری غلطیوں سے درگزر فرما۔ وہی عمل اسلامی عمل ہے جو انسان کو اس کے رب سے جوڑنے کا ذریعہ بن جائے۔ جو آدمی کی روح میں لطافت پیدا کر کے اس کو خدا سے قریب کر دے۔ جس کا نتیجہ یہ ہو کہ اس کے سینہ سے ذکر و دعا کا سیلاب امڈنے لگے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page