ربانی انسان
Urdu book, p. 45
By Maulana Wahiduddin Khan
مطلوب بندے عن ابی ایوب الانصاری قال قال رسول الله حضرت ابو ایوب انصاری کہتے ہیں کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يحل لرجل صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی آدمی کے لیے ان يهجر اخاه فوق ثلاث ليال يلتقيان جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن تک چھوڑے فيعرض هذا ويعرض هذا وخيرهما رکھے ۔ دونوں کا سامنا ہو تو یہ ادھر منہ پھیرے الذی يبدأ بالسلام اور وہ ادھر منہ پھیرلے۔ اور دونوں میں بہتر وہ ہے ( متفق عليه ) جو سلام میں پہل کرے ۔ اللہ کے محبوب بندے وہ ہیں جنہیں نمایاں ہونے کا کوئی شوق نہ تھا۔ وہ گم نامی میں جئے اور گم نام ہی اس دنیا سے چلے گئے ۔ جنھوں نے جو کچھ کیا صرف اللہ کے لیے کیا ، ان کی کوئی اور غرض اس میں شامل نہ تھی ، جو اتنے بے نفس تھے کہ اگر کسی بھائی سے بگاڑ کی بات ہو گئی تو انھوں نے تعلقات کو خوش گوار بنانے کے لیے پہل کی ۔ اس دنیا میں بگاڑ کا پیش آنا فطری ہے۔ مگر بگاڑ پر قائم رہنا سرکشی ہے۔ جو شخص بگاڑ پر قائم رہے ، وہ اپنے عمل سے ثابت کرتا ہے کہ وہ خود پرستی کا مریض ہے ۔ وہ اپنی ذات کو حق سے بلند سمجھتا ہے ۔ وہ اپنی خواہش کو وہ مقام دے رہا ہے جو مقام خدا کو دیا جانا چاہیے ۔ حق کا مجروح ہونا اسے گوارا ہے ، مگر اپنی ذات کا مجروح ہونا اسے گوارا نہیں ۔ ایسے ہی لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ جب کسی سے کوئی شکایت کی بات ہو جاتی ہے تو وہ غصہ ہو کر بیٹھ جاتے ہیں ۔ وہ اس سے سلام و کلام بند کر دیتے ہیں ۔ حتیٰ کہ جب جذبات ٹھنڈے پڑتے ہیں اور انھیں اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے اس وقت بھی وہ دوبارہ تعلقات پیدا کرنے میں پہل نہیں کرتے ۔ وہ اس کو اپنے لیے سبکی سمجھتے ہیں ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر میں نے پہل کی تو میں چھوٹا ہو جاؤں گا ۔ اس قسم کے خیالات یقیناً شیطانی وسوسہ ہیں ۔ اور مومن کو چاہیے کہ وہ اس قسم کے وسوسوں سے بچے ۔ وہ اللہ کی خاطر ہر دوسری چیز کو نظر انداز کر دے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader