ربانی انسان
Urdu book, p. 46
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلامی عبادات قال حذیفة انا سمعته یقول : فتنةً حذیفه رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی الرجل في اهله و مالہ و جاره علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ آدمی اپنے گھر میں اور اپنے یکفرها الصلاة و الصیام والصّدقة مال میں اور اپنے پڑوسی کے ساتھ جو غلطیاں کرتا ہے، (بخاری کتاب الصوم) ۔ نماز اور روزہ اور صدقہ اس کا کفارہ بن جاتے ہیں۔ موجودہ دنیا میں آدمی مختلف تعلقات کے درمیان زندگی گزارتا ہے۔ اس کے ساتھ طرح طرح کے معاملات پڑتے ہیں۔ یہ سب چیزیں انسان کے لیے آزمائش ہیں۔ اس آزمائش میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ آدمی سے کو تاہیاں اور غلطیاں ہو جاتی ہیں۔ مگر اسلام کی عبادت کا نظام ان کوتاہیوں کو اسی طرح دھو دیتا ہے جس طرح آدمی کے جسم پر میل لگ جائے اور غسل کرنے کے بعد اس کا جسم دوبارہ پاک صاف ہو جائے ۔ آدمی نے کسی کے ساتھ سرکشی کا رویہ اختیار کیا۔ اس کے بعد جب وہ مسجد میں جاتا ہے اور اللہ کے آگے سجدہ کرتا ہے تو اس کو یاد آجاتا ہے کہ میں تو ایک عاجز بندہ ہوں، میرے لیے سرکشی کا رویہ درست نہیں۔ یہ احساس اس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ سرکشی کا رویہ چھوڑ دے ۔ اسی طرح روزہ میں بھوک پیاس کا تجربہ آدمی کے اندر اس احساس کو جگاتا ہے کہ اللہ نے جو چیزیں انسان کو دی ہیں وہ کتنی بڑی نعمت ہیں۔ اس نے اگر اس سے پہلے بے اعترانی اور احسان فراموشی کا طریقہ اختیار کیا تھا تو اب وہ اعتراف اور احسان مندی کے طریقہ کو اختیار کر لیتا ہے۔ اسی طرح آدمی جب صدقہ اور زکوٰۃ کے حکم کی تعمیل کرتا ہے تو وہ اس مومنانہ احساس کا تجربہ کرتا ہے کہ اس کو دوسروں کا خیر خواہ ہونا چاہیے۔ اس کو چاہیے کہ وہ دوسروں کے لیے نفع بخش بن کر رہے۔ یہ تجربہ اس کو اس قابل بناتا ہے کہ اگر اب تک وہ دوسروں کا بد خواہ تھا تو اب وہ ان کے ساتھ خیر خواہی کرے، اگر اس سے دوسروں کو نقصان پہنچ رہا تھا تو اب وہ سوچنے لگتا ہے کہ میں اپنے رویہ کو بدلوں اور دوسروں کے لیے مفید بن کر زندگی گزاروں ۔ اسلام کی عبادتیں، ایک قسم کا روحانی غسل ہیں جو بار بار آدمی کو دھو کر اس کو پاک کرتی رہتی ہیں۔ یہاں تک کہ اس کو جنتی انسان بنا دیتی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader